جب کسی کے اپنے ملک میں تعلیم کا معیار بہتر ہو اور مطلوبہ سہولیات بھی وافر مقدار میں دستیاب ہوں، اس کے باوجود کوئی شخص کسی دوسرے ملک میں حصولِ تعلیم کے لیے جھوٹ کا سہارا لیتے ہوئے، مثلاً سیاحتی ویزا جیسے جعلی طریقے سے وہاں جانا چاہے، تو کیا ایسے عمل کی شریعت میں اجازت ہے؟ کیا یہ شرعاً جائز ہے؟
واضح ہو کہ ویزا حاصل کرنا حکومت کے ساتھ معاہدہ کرنا ہے اور جس بات پر معاہدہ ہوجائے اسکی خلاف ورزی کرنا ممنوع ہے لہذا اولا تو ملکی سطح پر مطلوبہ سہولیات اور معیاری تعلیم کی موجودگی کی صورت میں کسی ایسے ملک جانے کا انتخاب کرنا جہاں اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے میں دشواری پیش آنے کا اندیشہ ہو درست نہیں بلکہ اپنے آپ کو دینی اقدار اور اسلامی تشخص سے محرومی کیلئے پیش کرنے کے مترادف ہے ۔ البتہ اگر واقعۃ ضرورت کی خاطر جانے کی نوبت آجائے تو وہاں جھوٹ اور غلط بیانی کا سہارا لینے کے بجائے واقعی صورت حال کو سامنے رکھ کر ویزا حاصل کرنا چاہئے تاکہ دھوکہ دہی اور غلط بیانی کا گناہ لازم نہ آئے ۔
کما فی صحیح البخاری: عن عبد الله رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة (باب السمع والطاعۃ للامام مالم تکن معصیۃ،رقم الحدیث:7144)
وفی مشکاۃ المصابیح: عن عبد الله رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال إن الصدق يهدي إلى البر وإن البر يهدي إلى الجنة وإن الرجل ليصدق حتى يكون صديقا وإن الكذب يهدي إلى الفجور وإن الفجور يهدي إلى النار وإن الرجل ليكذب حتى يكتب عند الله كذابا(باب حفظ اللسان،رقم الحدیث:4825)
وفی القرآن المجید: وَلَا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ(رقم الآیۃ195،رقم السورۃ:2)
وفی مرقاۃ المفاتیح تحت قولہ(فان الکذب یھدی الی الفجور)ای یمیل عن الصدق و الحق والانبعاث فی المعاصی
وتحت قولہ(ویکتب عند اللہ کذابا) قال النووی ومعنی یکتب ھنا یحکم لہ بذلک و یستحق الوصف،(باب حفظ اللسان،ج:8،ص:567،ناشر: مکتبہ حقانیۃ)
وفی مشکاۃ المصابیح: إذا وَعَدَ الرَّجُلُ أخاه ومِن نِيَّتِه أن يَفِيَ فلم يَفِ، ولم يَجِئْ للميعادِ، فلا إثْمَ عليه.( کتاب الآداب،باب الوعد،رقم الحدیث: 4881)
وفی مرقاۃ المفاتیح تحت قولہ(فلا اثم)ومفھومہ ان من وعد ولیس من نیتہ ان یفی، فعلیہ الاثم سواء اوفی بہ او لم یف فانہ اخلاق المنافقین(باب الوعد،ج:8،ص:615،ناشر:مکتبہ حقانیۃ)