میں ایک ایسی خاتون سے شادی شدہ ہوں جس کی ایک بیٹی اس کے سابق شوہر سے ہے، میں نیدرلینڈز میں رہتا ہوں اور اپنی بیوی اور سوتیلی بیٹی کو اسپانسر (کفالت)کرنا چاہتا ہوں، لیکن اس کے سابق شوہر کا دعویٰ ہے کہ اس کی بیٹی کا میرے ساتھ (یعنی ایک سوتیلے باپ کے ساتھ) نیدرلینڈز میں رہنا شرعاً ممنوع ہے اور یہ غیر اسلامی ہے، براہِ کرم اس معاملے میں رہنمائی فرمائیں، مجھے اس بارے میں کوئی باقاعدہ فتویٰ درکار ہے۔
واضح ہوکہ طلاق کے بعد بچی کی عمرنوسال ہونے تک اس کی پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے، بشرطیکہ ماں اس دوران بچی کے کسی غیر ذی رحمِ محرم سے شادی نہ کرے،لیکن اگر وہ بچی کے کسی غیرذی رحم محرم(تایا،چاچا) وغیرہ کے علاوہ کسی سے نکاح کرلےتو ایسی صورت میں اس کا حقِ پرورش ختم ہوکر بچی کی نانی کو حاصل ہوگا،اگر نانی نہ ہو یا وہ پرورش سے انکار کردے تو پھر اس بچی کی دادی،خالہ اور پھوپھی کو بالترتیب حق پرورش حاصل ہوگا، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل اگر مذکورہ ربیبہ (سوتیلی بیٹی)کے لیے غیرذی رحم محرم ہو یا ربیبہ کی عمر نوسال یا اس سے زیادہ ہو اور بچی کے والد اس کو مزید ماں کی پرورش میں رکھنےپرآمادہ نہ ہو تواس صورت میں وہ بچی کی کفالت کےلیےاسے اپنی تحویل میں لےسکتاہے، البتہ اگر بچی کی عمر نوسال سے کم ہو اور سائل اس بچی کا ذی رحم محرم رشتہ دار بھی نہ ہو تو اس صورت میں بچی کے والد کی اجازت ومرضی کے بغیرسائل کیلئے مذکور سوتیلی بیٹی کواپنے ساتھ رکھناتوجائز نہیں، اگرچہ سائل کیلئے جس طرح اپنی حقیقی بیٹی محرم ہے،ا سی طرح سوتیلی بیٹی بھی محرم ہے،چنانچہ سائل کیلئے اس کے ساتھ ملاقات کرتے وقت شرعی پردہ وغیرہ کی پابندی لازم نہیں، تاہم صلہ رحمی کے طورپر اگروہ بچی کی پرورش کے اخراجات برداشت کرناچاہے توبلاشبہ مذکور عمل مستحسن اور کارِثواب ہے،لیکن سائل کےمذکور ذمہ داری اٹھانے کے باجود اس بچی کی کفالت کی ذمہ داری اس کےحقیقی والد کے ذمہ سے ساقط نہ ہوگی ۔
کمافی مسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ: الربيبة لغة: هي ابنة امرأة الرجل من غيره مشتقة من الرب، وهو الإصلاح؛ لأنه يقوم بأمورها ويصلح أحوالها، والجمع ربائب،
وفي اصطلاح الفقهاء: الربيبة: بنت الزوجة، وبنت ابنها، وبنت بنتها وإن سفلا من نسب أو رضاع وارثة أو غير وارثة، والابن ربيب، الربيبة من المحرمات بشرط دخول الرجل بأمها، فإذا دخل الرجل بزوجته حرمت عليه ربيبته سواء كانت في حجره أم لم تكن في قول عامة الفقهاء؛ (المادۃ: ربیبۃ، ج 22، ص 93، ط: دار السلاسل، الکویت)-
وفی فتح القدیر: تحت (قوله: وعن محمدؒ أنها تدفع إلى الأب إذا بلغت حد الشهوة) وهی رواية هشام عنه، وفی غياث المفتی الاعتماد على رواية هشام عن محمد لفساد الزمان، وعن أبی يوسفؒ مثله، واختلف فی حد الشهوة ليبنى عليها أخذ الأب وثبوت حرمة المصاهرة، قالوا: بنت تسع مشتهاة، الخ (کتاب الطلاق، باب: الولد من أحق به، ج 4، ص 371-372، ط: دار الفکر، بیروت)-
وفی الھندیۃ: أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم، (إلی قولہ) وإنما يبطل حق الحضانة لهؤلاء النسوة بالتزوج إذا تزوجن بأجنبي، فإن تزوجن بذي رحم محرم من الصغير كالجدة إذا كان زوجها جدا لصغير أو الأم إذا تزوجت بعم الصغير لا يبطل حقها كذا في فتاوى قاضي خان، ومن سقط حقها بالتزوج يعود إذا ارتفعت وإذا كان الطلاق رجعيا لا يعود حقها حتى تنقضي عدتها لقيام الزوجية كذا في العيني شرح الكنز، ولو تزوجت الأم بزوج آخر وتمسك الصغير معها أو الأم في بيت الراب فللأب أن يأخذها منها، الخ (کتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج 1، ص 541، ط: مکتبۃ ماجدیۃ)-
وفی الھندیۃ: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا فی الجوهرة النيرة، الخ (کتاب الطلاق، الباب السابع عشر فی النفقات، الفصل الرابع فی نفقة الأولاد، ج 1، ص 560، مکتبۃ ماجدیۃ)-