السلام علیکم !میں بمعہ فیملی دبئی میں رہتا ہوں ، یہاں علاج و معالجہ بہت مہنگا، اور عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔،یہاں ”میڈیکل انشورنس کمپنی“ کے ذریعہ ضرورت کو پورا کیا جاتا ہے ، اور اب حکومت امارات کی طرف سے یہ لازم ہے کے میڈیکل انشورنس فیس ادا کیے بغیر ویزا نہیں دیں گے،اور میری آمدنی اتنی نہیں ہے کہ میں اپنا یا بچوں کا علاج کرا سکوں پورے پیسے ادا کر کے، ایسی صورت میں کیا احکامات ہیں، اور کیا انشورنس کمپنی کے ذریعہ ضرورت پوری کی جا سکتی ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مروجہ بیمہ پالیسیاں چونکہ سود اور قمار پر مشتمل ہوتی ہیں ،اس لیے عام حالات میں وہ پالیسیاں لینا تو جائز نہیں ،البتہ صورتِ مسئولہ میں اگر سائل کسی کمپنی کا ملازم ہو اور کمپنی اس سے جبری کٹوتی کر کے اس کی طرف سے پریمیم ” میڈکل انشورنس کمپنی“ میں جمع کراتی ہو، تو ایسی صورت میں سائل کے لیے پالیسی سے طبی فوائد حاصل کرنے کی گنجائش ہے ۔
کما قال اللہ تعالیٰ: أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(الآیة البقرة: 275)۔
و قال الله تعالى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورة المائدة، الأية 90)۔
و فی الصحیح لمسلم: عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم آکل الربا و موکلہ و کاتبہ و شاھدیہ و قال ھم سواء ( کتاب البیوع ج: 3 ، ص: 1219، ط: دار إحیاء التراث العربی)۔
و فی الموافقات للشاطبی: الضروريات: هي التي لا بد منها في قيام مصالح الدين والدنيا، بحيث إذا فقدت لم تجر مصالح الدنيا على استقامة، بل على فساد وتهارج وفوت حياة، وفي الأخرى فوت النجاة والنعيم، والرجوع بالخسران المبين(الی قولہ)مجموع الضروريات خمسة، وهي: الدين، والنفس، والنسل، والمال، والعقل۔اھ (ص:319)۔
و فی قواعد الفقہ: الضرورات تبیح المحظورات۔اھ (ص:89)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0