گناہ و ناجائز

پراویڈنٹ فنڈ کے ذریعہ ملنے والے منافع کا حکم

فتوی نمبر :
8591
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

پراویڈنٹ فنڈ کے ذریعہ ملنے والے منافع کا حکم

پراویڈنٹ فنڈ پر حاصل ہونے والا منافع سود ہے یا کچھ اور ، برائے مہربانی تفصیلی جواب دیں، جبکہ میرے پاس پراویڈنٹ فنڈ کی اکاؤنٹ پر منافع کی ایک معقول مقدار کا انبار ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ پراویڈنٹ فنڈ (GPF) کی دو قسمیں ہیں: (1) جبری (2) اختیاری۔جبری پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم کی تنخواہ سے جو رقم ماہ بماہ کاٹی جاتی ہے ، اور اس پر ہر ماہ جو اضافہ محکمہ اپنی طرف سے کرتا ہے، پھر مجموعہ پر جورقم سالانہ بنام سود جمع کرتا ہے ، شرعاً ان تینوں رقموں کا حکم ایک ہی ہے ، اور وہ یہ کہ یہ سب رقمیں در حقیقت ملازم کی تنخواہ ہی کا حصہ ہیں، اگرچہ سود یا کسی اور نام سے دی جائیں، لہذاملازم کا ان کو لینا اور اپنے استعمال میں لانا جائز اور درست ہے۔ جبکہ پراویڈنٹ فنڈ کی دوسری قسم اختیاری ہے، جس کو ملازم اپنی مرضی اور اختیار سے کٹواتا ہے، اور اس پر کچھ رقم محکمہ بنام سود دیتا ہے، اس دوسری قسم میں چونکہ تشبہ بالربا کے علاوہ سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی ہے ، اس لئے اس رقم کو وصول ہی نہ کیا جائے ، یا وصول کر کے بغیر نیتِ ثواب کسی مستحقِ زکوۃ کو صدقہ کر دیا جائے۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافي البحر الرائق: قوله ( بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن ) يعني لا يملك الأجرة إلا بواحد من هذه الأربعة والمراد أنه لا يستحقها المؤجر إلا بذلك (7/ 300)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
لطف اللہ نصيب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 8591کی تصدیق کریں
0     360
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات