میرا نام اسامہ طارق ہے، میں حافظ قرآن ہوں،ایک کمپنی ہے جو آئن لائن ٹریڈنگ کرتی ہے،اس کمپنی میں 340انویسٹ کرنے پر روز کی بنیا د پر 80روپے ملتے ہیں، اور یہ 340والا پیکج 40 دن پر مشتمل ہے 40 دن بعد پیکج ختم ہوجاتاہے،اسکے بعد دوبارہ سے پیکج کرنا پڑتا ہے، میرا سوا ل یہ ہے کہ یہ جو رو زانہ کی بنیا د پر 80 روپے ملتے ہیں جو کہ کمپنی کی کمائی سے ہمیں ملتے ہیں تو کیا یہ پیسہ ہم پر جائز ہے یا ناجائز ؟
نوٹ: سائل مذکور کمپنی کے ویب سائٹ پر ویڈیوز دیکھ کر ان کا ویوز بڑھاتا ہے۔
سائل نے سوال میں مذکور کمپنی کے طریقہ کار کی جو تفصیل ذکر کی ہے، آج کل اس نوعیت کی بہت سی کمپنیاں موجود ہیں، لیکن عموماً ان کا طریقہ کار شرعی اصولوں کے مطابق نہیں ہوتا، نیز اس میں بعض دفعہ دھوکہ دہی اور انویسٹ کردہ پیسوں کے ضائع ہونے کا بھی اندیشہ رہتا ہے، اس لئے ایسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الھدایۃ : قال الاجرۃ لا تجب بالعقد وتستحق باحدی معانی الثلاثۃ اما بشرط التعجیل او بالتعجیل من غیر شرط او باستیفاء معقود علیہ الخ ( کتاب الاجارۃ، ج3، ص297، ط: رحمانیۃ)۔
وفی الھندیۃ: الاجر لایملک بنفس العقد و لایجب تسلیمہ بہ عندنا (إلی قولہ) ثم الأجرۃ تستحق بأحد معان ثلاثۃ اما بشرط التعجیل أو بالتعجیل أو باستیفاء المعقود علیہ فإذا وجد أحد ھذہ الأشیاء الثلاثۃ فإنہ یملکھا کذا فی شرح الطحاوی و کما یجب الاجر باستیفاء المنافع یجب بالتمکن من استیفاء المنافع إذا کانت الاجارۃ صحیحۃ۔إلخ( کتاب الإجارۃ، الباب الثانی فی بیان أنہ متی تجب الأجرۃ، ج: 4، ص: 313، ط: مکتبہ ماجدیۃ)۔
وفی الدر المختار : (ھی) لغۃ اسم للأجرۃ و ھو ما استحق علی عمل الخیر ولذا یدعی بہ یقال اعظم اللہ أجرک ( تملیک نفع ) مقصود من العین (بعوض) حتی لو استاجر ثیابا أو أوانی لیتجمل بھا أو دآبۃ لیجنبھا بین یدیہ أو دارا لیسکنھا أو عبدا أو غیر ذلک لا لیستعملہ بل لیظن الناس أنہ لہ فالإجارۃ فاسدۃ فی الکل ولا أجر لہ لأنھا منفعۃ غیر مقصودۃ من العین الخ
و فی الشامیۃ: تحت (قولہ مقصود من العین) أی فی الشرع و نظر العقلاء (إلی قولہ) فإنہ و إن کان مقصودا للمستأجر لکنہ لا نفع فیہ و لیس من المقاصد الشرعیۃ الخ (کتاب الاجارۃ، ج6، ص4، ط:سعید)۔