گناہ و ناجائز

روزگار نہ ہونے کی وجہ سے اسقاطِ حمل کروانا

فتوی نمبر :
86271
| تاریخ :
2025-09-18
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

روزگار نہ ہونے کی وجہ سے اسقاطِ حمل کروانا

امید ہے آپ خیریت سے ہوں گے، براہِ کرم میرے اور میری بیوی کے حوالے سے ایک شرعی مسئلہ پر رہنمائی فرمائیں، میں آپ کی فکری و شرعی رائے کا خواہاں ہوں،میری بیوی کے حمل کی مدت تقریباً 7 ہفتے ہے،ہماری معاشی حالت انتہائی خراب ہے ،ہمارے پاس گھر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی مستقل روزگار ہے،اس وقت میرے والد ہمیں اور ہمارے بچوں کو کھلا رہے ہیں، اور انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ مزید کسی بچہ کامنصوبہ نہ بنایا جائے،میرے پاس حمل کی دیکھ بھال طبی اخراجات اور ولادت کے اخراجات کے لیے ایک بھی روپیہ نہیں ہے،میرے والد اکثر میرا اور بیوی کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ ہم اپنے لیے اور اپنے بچوں کے لیے کھانا بھی فراہم نہیں کر سکتے، اور یہ ذہنی دباؤ ہم دونوں کے لیے بہت شدید ہو چکا ہے،میری استدعاہے کہ ان حالات میں اسلامی شریعت کے مطابق کیا میری بیوی کا یہ حمل ختم کرنا (ابارشن) جائز ہے؟کیا آپ اس مخصوص صورتِ حال یعنی غربت، بے روزگاری، بے گھری، سسر کی ممانعت، اور شدید ذہنی دباؤ کو شرعی طور پر جائز سبب شمار فرماتے ہیں؟میں اور میری بیوی آپ کی صریح اور فوری رہنمائی کے منتظر ہیں تاکہ ہم شرعی اور قانونی طور پر درست قدم اٹھا سکیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ فقہاء کرام ۔رحمہم اللہ۔ نے حمل پر چار ماہ کا عرصہ گزرنے سے قبل اگر چہ بعض اعذار کی وجہ سے اسقاط(ابارشن) کی اجازت دی ہے، تاہم مستقبل میں بچوں کی دیکھ بھال کیلئے متوقع مالی وسائل کی عدم دستیابی ان اعذار میں شامل نہیں، لہذا سائل اور اس کی بیوی کیلئے اسقاطِ حمل (ابارشن) کے بجائے حلال ذرائع آمدن تلاش کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔

مأخَذُ الفَتوی

قال اللہ تعالی: ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ إملاق نحن نرزقھم وایّاکم الخ (جزء خامس عشر، سورۃ بنی اسرائیل، رقم آیۃ 31)۔
وفی أحکام القرآن للجصاص : (ولا تقتلوا اولادکم خشیۃ املاق)ھو کلام یتضمن ذکر السبب الخارج علیہ وذالک لان العرب کان یقتل بناتہ خشیۃ الفقر لئلا یحتاج الی النفقۃ علیھن ولیتوفر ما یرید انفاقہ علیھن علی نفسہ وعلی بیتہ وکان ذالک مستفیضا شائعا فیھم وھی المؤدۃ التی ذکرھا اللہ فی قولہ (واذا المؤدۃ سئلت بایّ ذنب قتلت) ولمؤدۃ ھی المدفونۃ حیا وکانوا یدفنون بناتھم احیاء وقال عبد اللہ بن مسعود سئل النبیﷺ فقیل ما اعظم الذنوب قال ان تجعل اللہ ندا وھو خلقک وان تقتل ولدک خشیۃ ان تاکل معک وان تزنی بحلیلۃ جارک، قولہ تعالی (نحن نرقھم وایّاکم) فیہ اخبار بان رزق الجمیع علی اللہ تعالہ واللہ سیسبب لھم ما ینفقون علی الاولاد وعلی انفسھم وفیہ بیان ان اللہ تعالی سیرزق کل حیوان خلقہ مادامت حیاۃ باقیۃ وانہ انما یقطع رزقہ بالموت الخ (ج 3، ص 200، ط: سہیل اکیڈمی)۔
وفی الدر المختار: قال الکمال: فلیعتبر عذراآ مسقطا لإذنھا وقالوا یباح اسقاط الولد قبل اربعۃ اشھر ولو بلا إذن الزوج الخ
وفی الشامیۃ تحت : ( قولہ وقالوا الخ ) قال فی النھر: بقی ھل یباح الإسقاط بعد الحمل؟ نعم یباح مالم یتخلق منہ شیئ ( إلی قولہ ) ونقل عن الذخیرۃ لو أرادت الإلقاء قبل مضی زمن ینفک فیہ الروح ھل یباح لھا ذالک أم لا؟ اختلفوا فیہ وکان الفقیہ علی بن موسی یقول إنہ یکرہ فإن الماء بعد ما وقع فی الرحم مألہ الحیاۃ فیکون لہ حکم الحیاۃ کما فی بیضۃ صید الحرم ونحوہ فی الظھیریۃ قال ابن وھبان فإباحۃ الاسقاط محمولۃ علی حالۃ العذر أو أنھا لا تأثم إثم القتل الخ ( باب النکاح الرقیق، ج 3، ص 176، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
انعام اللہ حمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86271کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات