السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
بعد از سلامِ مسنون عرض ہے کہ بندہ کا نام محمد سمیل ہے اور میں بحر الکاہل میں واقع ایک چھوٹے سے ملک فیجی کا باشندہ ہوں ، ہمارا جزیرہ بہت چھوٹا ہے مگر یہاں ہمیں کافی سہولیات مہیّا کی گئی ہیں، مگر پھر بھی یہاں پاک و ہند کی طرح ہر قسم کی سہولت موجود نہیں۔
موجودہ وقت میں نئی نئی بیماریاں وجود پارہی ہیں جس میں اعضاء رئیسہ متاثر ہونے کی صورت میں ملک میں علاج مشکل ہے پھر علاج کے لیے لوگ یہاں کے اطباء کے مشورے پر بیرون ملک ہندوستان، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا جیسے ممالک کاسفر کرتے ہیں اور اپنا علاج کرواتے ہیں جو ہر شخص کی دسترس سے باہر ہے۔ایسی صورت میں مفتیانِ عظام قرآن و احادیث نبویہ کی روشنی میں بہتر رہنمائی فرمائیں کہ
۱۔کیا ہم میڈیکل انشورنس لے سکتے ہیں ؟
۲۔یہاں بعض بڑی کمپنیوں کی طرف سے میڈیکل انشورنس کی سہولت فراہم کی جاتی ہے کیا اس سہولت سے فائدہ اُٹھایا جاسکتا ہے؟
۳۔ کچھ کام کی جگہوں پر انشورنس لازم /جبری ہے تو ایسی صورت میں کیا کیا جائے؟جزاکم اللہ خیراً
واضح ہوکہ مروّجہ انشورنس سود،قمار اور غرر پر مشتمل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام اور گناہِ کبیرہ ہے،جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں جن جگہوں پر انشورنس اختیاری ہو تو وہاں انشورنس پالیسی لینے سےاحتراز لازم ہے،البتہ جن جگہوں پر انشورنس پالیسی لینا قانوناً لازم ہو تو وہاں پالیسی لینے کی گنجائش ہے، البتہ انشورنس کمپنی کی طرف سے رقم ملنے کی صورت میں پریمیم کی حد تک جمع کردہ رقم سے زائد رقم صدقہ کرنا لازم ہوگا۔
کما فی قولہ تعالیٰ: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا اھ ( سورۃ البقرۃ: 275 )۔
کما فی مرقاۃ المفاتیح: (عن جابر قال: «لعن رسول الله - صلى الله عليه وسلم آكل الربا» ) ، أي: آخذه وإن لم يأكل ، وإنما خص بالأكل لأنه أعظم أنواع الانتفاع كما قال - تعالى: {إن الذين يأكلون أموال اليتامى ظلما} (ومؤكله) : بهمزة و يبدل أي: معطيه لمن يأخذه ، وإن لم يأكل منه نظرا إلى أن الأكل هو الأغلب أو الأعظم كما تقدم ، قال الخطابي: سوى رسول الله - صلى الله عليه وسلم بين آكل الربا وموكله ، إذ كل لا يتوصل إلى أكله إلا بمعاونته ومشاركته إياه، فهما شريكان في الإثم كما كانا شريكين في الفعل ، ( الی قولہ ) (وكاتبه وشاهديه) : قال النووي: فيه تصريح بتحريم كتابة المترابيين والشهادة عليهما وبتحريم الإعانة على الباطل الخ(الفصل الاول ، باب الربا ، ج6 ، ص51 ، ط۔ حقانیہ )۔
و فی رد المحتار: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص ، ولا كذلك إذا شرط من جانب واحد لأن الزيادة والنقصان لا تمكن فيهما بل في أحدهما تمكن الزيادة، وفي الآخر الانتقاص فقط فلا تكون مقامرة لأنها مفاعلة منه زيلعي اھ۔ ( کتاب الحظر و الاباحۃ ، فصل فی البیع ، ج6 ، ص403 ، ط۔ ایچ ایم سعید ) ۔
و فی بدائع الصنائع: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع فيه غرر وبيان تمكن الغرر أن الغرر هو الخطر وفي هذا البيع خطر من وجوه: أحدها: في أصل المعقود عليه، الخ ۔ ( کتاب البیوع ، فصل و أما الشرائط الصحۃ ، ج5 ، ص163 ، ط۔ ایچ ایم سعید )۔
وفی قواعد الفقہ: الضرورات تبیح المحظورات اھ ( ص 89 )۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0