السلام علیکم!
محترم میرا سوال یہ ہے کہ ہم لوگ سعودی عرب میں بلڈنگ لینے کا کام کرتے ہیں، لیکن جب ہم رنگ یعنی کلر لگاتے ہیں تو ہم سعودی کو دوکان پر لے کے جاتے ہیں ،تو دوکان والا ہم کو 50 ریال کمیشن کے دیتے ہیں، جس کا سعودی کو پتہ نہیں ہے، صرف ہم کو یا دوکان والے کو پتہ ہے، اور اس رنگ کی کوالٹی بھی ٹھیک نہیں ،اور دوسرا اس رنگ کو دوکان والا سعودی کو 120 ریال میں سیل کرتا ہے، اور بعد میں ہم کو 50 ریال فی گیلن کمیشن دیتا ہے، تو کیا یہ کمیشن ہمارے لئے حلال ہے ؟
اس طرح دھوکہ دہی سے کمیشن لینا اور اسے اپنے استعمال میں لانا ہر دو امور شرعا ًنا جائز ہیں، اس طرح دھوکہ دہی سےحاصل کیا ہوا تمام مال واجب الرد ہے ،اور آئندہ کے لئے اس طرزِ عمل سے احتراز کرنابھی واجب ہے،البتہ اگر کوئی دوکاندار اس کمیشن کی وجہ سے نہ تو مال عام مارکیٹ کے اعتبار سے مہنگا کرتا ہو، اور نہ اس کے معیار میں فرق کرتا ہو تو اس طرح کا کمیشن لینا اور دینا ہر دو امور جائز ہیں ۔
كما في سنن أبي داود: ، عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر برجل يبيع طعاما فسأله كيف تبيع؟ فأخبره فأوحي إليه أن أدخل يدك فيه، فأدخل يده فيه فإذا هو مبلول، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ليس منا من غش» اھ (3/ 272)-