مؤرخہ 21 جون 2025ء کو میری غیر موجودگی میں جب میں ملازمت پر گیا ہوا تھا، اُس نے میری اجازت کے بغیر گھر کا تمام ذاتی سامان، بچوں کے کپڑے، ضروریاتِ زندگی کی اشیاء اور جتنا سامان لے جا سکتی تھی، لے کر گھر چھوڑ دیا، میں نے اُسے باربار بلایا اور صلح کی کوشش کی، مگر وہ واپس نہ آئی اور مسلسل انکار کرتی رہی، آخرکار میں دل برداشتہ ہو کر مؤرخہ 29 اگست 2025ء کو طلاق دینے پر مجبور ہوا، واضح رہے کہ وہ میرے گھر کو خود اپنی مرضی سے چھوڑ کر گئی اور میرے حقوق و عزتِ نفس کو مجروح کیا، لہٰذا وہ عدت کے نان و نفقہ کی شرعی اور قانونی حقدار نہیں رہی، قانون و شریعت کی رو سے اگر بیوی شوہر کے گھر کو بلا اجازت چھوڑ دے، اور شوہر کے بلانے پر واپس نہ آئے، تو وہ "ناشزہ" کہلاتی ہے، اور ایسی صورت میں نان و نفقہ کا دعویٰ برقرارکیا رہتاہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کی بیوی جب بغیر اجازت کے شوہر کا گھر چھوڑ کر چلی گئی تھی، اور شوہر کے متعدد بار بلانے پر بھی واپس شوہر کے گھر نہیں آئی، جس سے مجبور ہو کر سائل نے اسے طلاق بھی دیدی ہو، تووہ شرعاً ناشزہ (نافرمان) شمار ہوگی اور ایسی صورت میں عدت کا نان نفقہ شوہر پر لازم نہ ہوگا اور نہ ہی وہ شرعاً اس کا مطالبہ کر سکتی ہے۔
کما فی الدر المختار: و النفقۃ حقھا فتسقط بالفرقۃ بمعصیتھا الخ ( باب النفقۃ، ج: 5، ص: 344، ط: رشیدیۃ )۔
و فی الھندیۃ: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه الخ ( الباب السابع عشر فی النفقات، ج: 1، ص: 545، ط: ماجدیۃ )۔
و فی البحر الرائق: قوله لا ناشزة) بالجر عطف على الزوجة أي لا تجب النفقة للناشزة وهي في اللغة العصابة على الزوج المبغضة له، يقال نشزت المرأة على زوجها فهي ناشزة، وعن الزجاج النشوز يكون بين الزوجين وهي كراهة كل واحد منهما صاحبه، كذا في المغرب وفي الشرع كما قال الإمام الخصاف الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه والمراد بالخروج كونها في غير منزله بغير إذنه ليشمل ما إذا امتنعت عن المجيء إلى منزله ابتداء بغير إيفاء معجل مهرها وما إذا خرجت من منزله بعد الانتقال إليه الخ ( باب النفقۃ، ج: 4، ص: 303، ط: رشیدیۃ )۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0