السلام علیکم! میرا نکاح یکم نومبر 2019ء کو ہوا تھا، طلاق 5 اگست5 202ء کو ہوئی۔ طلاق کے وقت میرا ایک حیض پہلے گزر چکا تھا، طلاق کے بعد مجھے ایک حیض آ چکا ہے۔ میرا سوال یہ ہے: کیا طلاق سے پہلے والا حیض عدت میں شمار ہوگا یا نہیں؟ میری عدت کتنی باقی ہے اور کب ختم ہوگی؟ کیا میرے لیے عدت 40 دن ہے یا تین حیض؟ جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ عدت طلاق کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہے،طلاق سے پہلے شروع نہیں ہو تی ،لہذا صورتِ مسئولہ میں طلاق سے پہلے گزر جانے والا حیض عدت میں شمار نہ ہوگا۔
جبکہ سائلہ کو طلاق کے بعد جب ایک حیض آچکا ہے ، تو اب اس کے علاوہ مزید دو ماہواریاں گزارنا لازم ہوگا۔
کما فی البدائع: انھا تجب من وقت وجود سبب الوجوب من الطلاق و الوفاۃ و غیر ذلک الخ ( کتاب الطلاق، ج: 3، ص: 190، ط: سعید )۔
و فی الھندیۃ: ابتداء العدة في الطلاق عقيب الطلاق وفي الوفاة عقيب الوفاة، فإن لم تعلم بالطلاق أو الوفاة حتى مضت مدة العدة فقد انقضت عدتها كذا في الهداية الخ ( الباب الثالث عشر فی العدۃ، ج: 1، ص: 531-532، ط: ماجدیۃ )۔
و فیھا ایضاً: إذا طلق امرأته في حالة الحيض كان عليها الاعتداد بثلاث حيض كوامل ولا تحتسب هذه الحيضة من العدة كذا في الظهيرية الخ ( الباب الثالث عشر فی العدۃ، ج: 1، ص: 527، ط: ماجدیۃ )۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0