السلام علیکم ! میرے آفس کے ایک ساتھی ایک آن لائن ایپلیکیشن EXNESS Copy Trading پر ٹریڈنگ کر رہے ہیں، وہ کرنسیز، سونے اور چاندی میں ٹریڈ کرتے ہیں، انہوں نے مجھے بھی سرمایہ کاری کی دعوت دی ہے، ان کے مطابق یہ کام حلال ہے، وہ کرپٹو کرنسی میں ٹریڈ نہیں کرتے۔ براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ کیا مجھے یہ کام کرنا چاہیے؟
واضح ہو کہ خرید فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے، وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے یا ابھی تک اس کے قبضہ میں نہیں آئی، تو بیع درست نہیں ہوتی۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں سونا چاندی وغیرہ خرید کر اس پر حسی یا معنوی قبضہ کرنے سے قبل آگے کسٹمر پر بیچنا درست نہیں ، آن لائن ٹریڈنگ کی جو صورتیں اس وقت رائج ہیں، ان میں کسی قسم کے قبضہ کی صورت نہیں ہوتی، بلکہ ان میں سے بیشتر صورتیں قمار اور جوئے کے لئے استعمال ہوتی ہیں، لہذا اس قسم کے آن لائن ٹریڈنگ کے کاروبار سے بچنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار : ثم التسليم يكون بالتخلية على وجه يتمكن من القبض بلا مانع ولا حائل. وشرط في الأجناس شرطا ثالثا وهو أن يقول: خليت بينك وبين المبيع فلو لم يقله أو كان بعيدا لم يصر قابضا والناس عنه غافلون، فإنهم يشترون قرية ويقرون بالتسليم والقبض، وهو لا يصح به القبض على الصحيح اھ
وفی رد المحتار : تحت : (قوله علی وجه یتمکن من القبض) (الی قوله) طلب في شروط التخلية وحاصله: أن التخلية قبض حكما لو مع القدرة عليه بلا كلفة لكن ذلك يختلف بحسب حال المبيع، ففي نحو حنطة في بيت مثلا فدفع المفتاح إذا أمكنه الفتح بلا كلفة قبض، وفي نحو دار فالقدرة على إغلاقها قبض (الی قوله) (قوله: بلا مانع) بأن يكون مفرزا غير مشغول بحق غيره، فلو كان المبيع شاغلا كالحنطة في جوالق البائع لم يمنعه بحر (الی قوله) (قوله: ولا حائل) بأن يكون في حضرته. اهـ. ح وقد علمت بيانه (قوله ان یقول خلیت الخ) الظاہر ان المراد به الاذن بالقبض لا خصوص لفظ التخلیۃ لما فی البحر ولو قال البائع للمشتری بعد البیع: خذ لا یکون قبضا ولو قال خذہ یکون تخلیۃ اذا کان یصل الی اخذہ اھ وفی الفروع المارۃ ما یدل علیه ایضاً (قوله: أو كان بعيدا) أي وإن قال: خليت إلخ كما مر والمراد بالبعيد ما لا يقدر على قبضه، بلا كلفة، ويختلف باختلاف المبيع كما قررناه ( الی قوله) والصحیح ما ذکر فی ظاھر الروایۃ لانه اذا کان قریبا یتصور فیه القبض الحقیقی فی الحال فتقام التخلیۃ مقام القبض اھ (کتاب البیوع ، ج: 4 ، ص: 561 ، ط: سعید)۔
وفی الدر المختار : و هما ركنه ، وشرطه اهلية المتعاقدين الخ
وفي رد المحتار : تحت : (قوله وشرطه اهلية المتعاقدين ) أي بكونها عاقلين (الى قوله ) واما الثالث، وهو شرائط الصحة فخمسة وعشرون : منها عامة ومنها خاصة ( الى قوله) والخاصة معلومة الاجل في البيع المؤجل ثمنه والقبض في بيع المشترى المنقول، وفى الدين (الى قوله) ( قوله وحكمه ثبوت الملك) أي في البدلين لكل منهما في بدل، وهذا حكمه الاصلى والتابع وجوب تسليم المبيع والثمن الخ (كتاب البیوع ، ج: 4، ص: 504 ، ط: سعيد)ـ
وفی رد المحتار : تحت: (قولہ لأنہ یصیر قمارا) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ و ینقص أخرٰی، و سمی القمار قمارا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ إلی صاحبہ و یجوز أن یستفید مال صاحبہ و ھو حرام بالنص (إلی قولہ) لأن القمار ھو الذی یستوی فیہ الجانبان فی احتمال الغرامۃ علی ما بینا اھ الخ (کتاب الحظر و الإباحۃ، ج: 6، ص: 403، ط: ایچ ایم سعید)ـ