کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ ہم میزان بینک یا کسی اور اسلامی بینک سے مشینری وغیرہ قسطوں پر لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ جیسے ان کی گاڑیوں کی ترتیب ہے، تو کیا ہم اسی ترتیب سے مشینری و غیرہ بھی خرید سکتے ہیں؟
ہماری معلومات کے مطابق میزان بینک کے اکثر و بیشتر معاملات مستند مفتیان کرام پر مشتمل شریعہ ایڈوائزری بورڈ کی زیر نگرانی اسلامی اصولوں کے مطابق انجام پاتے ہیں، لہذا سائل کے لیے میزان بینک سے مشینری وغیرہ قسطوں پر خرید نا بھی شرعا درست ہے، البتہ سائل اگر اس کے علاوہ کسی اور غیر سودی بینک سے مذکور معاملہ کرنا چاہے اور اس کے کام کرنے کا طریقہ بھی شرعی اصولوں کے مطابق ہو، تو سائل کے لیے ان کے ساتھ بھی یہ معاملہ کرنا شرعاً جائز ہو گا۔ والله اعلم بالصواب