میرا بھائی امریکہ میں رہتا ہے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے گھر خریدنا چاہتا ہے، مگر نقد رقم دستیاب نہیں۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ کیا مکان خریدنے کے لیے سود پر قرض لینا جائز ہے؟میں نے دیکھا ہے کہ امریکہ میں بہت سے مسلمان بینک سے قرض لے کر گھر خریدتے ہیں، کیونکہ نقد ادائیگی ممکن نہیں ہوتی۔ کیا ایسی صورت میں سودی قرض سے مکان خریدنا شرعاً درست ہے؟
واضح ہو کہ مورگیج کے ذریعہ ، حصولِ مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ بلا شبہ نا جائز ہے اور اس سے احتراز لازم ہے ، البتہ اگر کوئی ادارہ یا بینک وغیرہ مطلوبہ مکان کی باضابطہ نقد خریداری کر کے اس پر اپنا مالکانہ قبضہ بھی کر لے اور اس کے بعد ادھار معاملہ کے ذریعہ قسطوں پر یہ مکان سائل پر فروخت کر دے اور اسی طرح قسطوں کی معاملے میں ابتداء ہی سے یہ طے کر لیا جائے کہ یہ ادھار اورقسطوں کا معاملہ ہوگا ، اس میں کل اتنی قسطیں ہونگی اور ہر قسط کی مالیت یہ ہوگی اور کسی قسط کی ادائیگی میں تاخیر ہونے پر کوئی چار جز بھی وصول نہ کئے جائیں اور جو سود کی رقم ادارہ لینا چاہتا ہے اس کو قیمت کا حصہ شمار کیا جائے تو اس طرح کا معاملہ شرعاً بھی جائز ہوگا اور اس طرح شرعی شرائط کو ملحوظ رکھ کر معاملہ کرنے سے ہر شخص اپنے ذاتی مکان کا مالک بھی بن سکتا ہے ۔
قال اللہ تعالی: وَ اَحَلَّ اللّٰہُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الْرِبٰوا الآیۃ (آیت:275، سورۃ البقرۃ)۔
و فی الدر المختار: ( و صح بثمن حال) و ھو الأصل (ومؤجل إلی معلوم) لئلا یفضی إلی النزاع ولو باع مؤجلا صرف شھر بہ یفتی الخ۔
و فی رد المحتار: تحت ( قولہ لئلا یفضی إلی النزاع) تعلیل الاشتراط کو الأجل معلوم (إلی قولہ) و منھا اشتراط أن یعطیہ الثمن علی التفاریق أو کل اسبوع البعض، فإن لم یشترط فی البیع بل ذکر بعدہ لم یفسد ، و کان لہ أخذ الکل جملۃ و تمامہ فی البحر الخ (کتاب البیوع مطلب فی التأجیل الخ۔ (ج: 4، ص:531، ط: سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1