میرے والد بچپن سے بے فکر تھے ،جوانی میں تھوڑا بہت کماتے تھے کہ بس گزارہ ہوجائے ،اب وہ بھی نہیں کماتے ،انکی عمر اب (64) ہوچکی ہے ،میری والدہ نانا اور خالہ ،ماموں نے ہمارے سارے خرچے اٹھائے ،بچپن سے سکول کی فیس، کپڑے ،والد بس گزارے کے لائق کر دیتے تھے پچھلے دس سالوں سے کمانا چھوڑ دیا ہے ، جبکہ ٹھیک ہے انہے فیز کلی کوئی ایشو نہیں ہے ، میری والدہ کو انکے والد سے وراثت میں جو پیسے ملے میری والدہ ہم چار بھائیوں کے یو نیورسٹی کی فیس انہیں پیسوں میں سے نکالی ، اور کھبی گھر کے خرچے بھی انہی پیسوں میں سے نکالا ، والد کو سب پتہ تھا پھر بھی وہ کوئی جوب نہیں کرتے تھے ، جبکہ میری والدہ بہت روتی تھی انکے سامنے کہ کوئی جوب کر لے ،بس وہ ہاں بول کر کچھ نہیں کرتے تھے ،اور ابھی بھی کچھ نہیں کرتے ،والد کا یہ رویہ میں بچپن سے دیکھ رہا ہوں ، اب میں خود سے ماشاءاللہ اچھا کماتا ہوں ،بس میرے دل میں والد کی عزت ختم ہوچکی ہے ، پچھلے چار سالوں سے ایک گھر میں رہنے کے باوجود والد سے میری کوئی بات چیت نہیں ہے ،اور نہ سلام دعا ہے ،میں نے خود بات چیت ختم کردی ان سے ، والدہ کہتی ہے کہ تم جھنم کما رہے ہو ،بیٹا ایسا مت کرو سلام کرو والد کو ، میں کیسے سلام اور بات کروں بس میرے دل میں والد کی عزت ختم ہوچکی ہے ،؟
سائل کے والد کا اپنے بیوی بچوں کے ساتھ مذکور رویہ اختیار کرنا اور ان کا نان و نفقہ برداشت نہ کرنا وغیرہ شرعا درست نہیں ،تاہم اس کے باوجود سائل کا والد کے اس رویے کو بنیاد بناکر ان کی بےاکرامی اور بےادبی کرنا اور ان سے قطع تعلقی اختیار کر لینا شرعا جائز نہیں بلکہ وہ اس کی وجہ سے گناہ گار ہورہا ہے ،لہذا سائل کو چاہیے کہ وہ اپنے والد کے حقوق کا خیال رکھتے ہوئے ان کے ادب و احترام کا مکمل اہتمام کرے ، ان شاءاللہ امید ہے کہ یہ اس کی خوش بختی اور سعادت مندی کا ذریعہ ہوگا ،
کما قال اللہ تعالی : وَقَضَىٰ رَبُّكَ أَلَّا تَعۡبُدُوٓاْ إِلَّآ إِيَّاهُ وَبِٱلۡوَٰلِدَيۡنِ إِحۡسَٰنًاۚ إِمَّا يَبۡلُغَنَّ عِندَكَ ٱلۡكِبَرَ أَحَدُهُمَآ أَوۡ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُل لَّهُمَآ أُفّٖ وَلَا تَنۡهَرۡهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوۡلٗا كَرِيمٗا 23 وَٱخۡفِضۡ لَهُمَا جَنَاحَ ٱلذُّلِّ مِنَ ٱلرَّحۡمَةِ وَقُل رَّبِّ ٱرۡحَمۡهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي، سورہ بنی اسرائیل آیۃ 23 ۔24 )
و فی موضع آخر : وَوَصَّيۡنَا ٱلۡإِنسَٰنَ بِوَٰلِدَيۡهِ إِحۡسَٰنًاۖ حَمَلَتۡهُ أُمُّهُۥ كُرۡهٗا وَوَضَعَتۡهُ كُرۡهٗاۖ ،سورہ الاحقاف،آیۃ 15)
و فی موضع آخر : وَصَاحِبۡهُمَا فِي ٱلدُّنۡيَا مَعۡرُوفٗاۖ وَٱتَّبِعۡ سَبِيلَ مَنۡ أَنَابَ إِلَيَّۚ،سورہ لقمان،آیۃ 15۔)
و فی صحیح مسلم : عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: « رَغِمَ أَنْفُهُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُهُ. قِيلَ: مَنْ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: مَنْ أَدْرَكَ وَالِدَيْهِ عِنْدَ الْكِبَرِأَحَدَهُمَا أَوْ كِلَيْهِمَا، ثُمَّ لَمْ يَدْخُلِ الْجَنَّةَ۔رقم الحدیث : 2551،ص : 5 ۔)
و فی مسند احمد : قَالَ رَسُولُ اللهِ صلى الله عليه وسلم: " مَنْ أَحَبَّ أَنْ يُمَدَّ لَهُ فِي عُمْرِهِ، وَأَنْ يُزَادَ لَهُ فِي رِزْقِهِ، فَلْيَبَرَّ وَالِدَيْهِ، وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ ،ج : 21، رقم الحدیث : 13401۔ )
و فی سنن الترمذی : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "رِضَا الربِّ فِي رِضَا الْوَالِدِ، وَسُخْطُ الرَّبِّ فِي سُخْطِ الْوَالِدِ". رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ. [ت: 1899۔)