اس مسئلہ کے بارے میں رہنمائی فرمائیں، ایک ماہ کیلئے”subscriton” ہوتا ہے، یعنی پیکج ہوتا ہے،لوگ آن لائن بیجتے ہیں، اور یہ پیکج جب آفیشل ویب سائٹ سے ڈائرک لے لیں، یا کیپ کٹ سرچ کرکے اس سے لے لیں، یا اے آئی سرچ کر کے اس سے لے لیں، تو یہ بہت مہنگی پڑتی ہے۔
اے آئی والے ٹوٹل تقریباً 30 ڈالر پر ملتا ہے، کیپ کٹ 6 یا 7 ڈالر پر ملتا ہیں، یعنی مذکور اشیاء حقیقی طور پر لیگل طور پر بہت مہنگے ملتے ہیں، اور جب ہمیں ملتے ہیں، کیپ کٹ ایک ڈالر یعنی تین سو روپے پر۔اوراسی طرح vivo 3 altra ہمیں دو ڈالر پر ملتا ہے، اتنا فرق ہے۔لیکن جب ہم سیلر سے لیتے ہیں ، ہمیں یہ معلوم نہیں کہ وہ کہاں اور کس طرح سے اس سے حاصل کر تا ہے، لیگل طریقے سے خریدتا ہے، یا ان لیگل ، پاکستان میں کس طرح آتے ہیں،یا بلیک میں یعنی کوڈ کے ذریعے لیتے ہیں۔ لہذا ہماری رہنمائی فرمائیں، ہم نے تقریباً 30 یا 35 ہزار روپے لگائے ہیں۔
خلاصہ: سوال میں مذکور ایپ کی اصل قیمت ویب سائٹ پر سات یا آٹھ ڈالر ہوتی ہے، لیکن سائل ان لیگل طریقے سے دو سو یا تین سو روپے پر خریدتا ہے،کیا سا ئل کیلئے اس طرح ان لیگل ایپ کی پیکج خرید نا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
آن لائن مہیا کی جانے والی سروسز جیسے انٹر نیٹ کا ماہانہ پیکج، سافٹ ویئرز یا سافٹ ویئرز کا ماہانہ سبسکریشن وغیرہ قابلِ ملکیت اور قابلِ انتقال حقوق ہیں، دیگر اشیاء کی خرید وفروخت کی طرح ان کی بھی غیر قانونی خرید وفروخت شرعاً جائز نہیں،لہذا درج بالا ویڈیو اور اے آئی ٹولز کی کی غیر قانونی اور بلیک مارکیٹ سے یا ہیک شدہ سروسز کی خرید وفروخت شرعاً جائز نہیں۔
البتہ وہ سبسکریشنز جو قانونی طور پر ایک کمرشل اکاونٹ پر کثیر تعدادمیں سستے داموں خرید لی جائیں پھر ایک ایک کر کےمناسب منافع رکھ کر بیچا جائے توایسا کرنا درست ہوگا،مثلاً ایک یوزر 50 ڈالر میں ملتا ہے، اگر 200 سو یوزر کا پیکج لیں گے تو ہر یوزر 2 ڈالر کا پڑے گا، تو اگر کوئی 200 یوزر کا پیکج لیکر اب آگے پانج ڈالر کا ایک ایک کر کے بیچے گا، تو ایسا کرنا شرعاً درست ہے۔
کمافی مشکاۃ المصابیح: عن ابی حرۃ الرقاشی عن عمہ قال قال رسول اللہﷺ ألا لا تظلموا ألا لا یحل مال إمرأی إلا بطیب نفس منہ الخ ( ج1، ص255، ط:قدیمی)۔
وفی الترغیب و الترھیب : عن إبن مسعود رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہﷺ من غش فلیس منا والمکر والخداع فی النار الخ ( باب الترغیب عن اللغش ، ج 2، ص 572 ، ط : دارلإحیاء التراث العربی)۔