السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ!
میرا ایک اہم مسئلہ ہے میں نے شادی کی تھی 2017 میں اور شروع سے سسرال میں رہتا تھا میرے سسر کا ایک چھوٹا بیٹا ہے ابھی اس کی عمر 8 سال ہے اور کوئی اولاد نہیں ہے ابھی پچھلے ماہ میرے سسر کا انتقال ہوگیا ہے جو ابھی میری ساس عدت میں ہے اسی گھر میں میری بیوی اور میرے بچے ساس اور اس کا چھوٹا بیٹا رہتا ہے کیا میں ابھی بیوی بچوں کے ساتھ ساس کےہاں رہ سکتا ہوں ؟کیا شریعت اجازت دیتی ہے کیا میں انکی کفالت کر سکتا ہوں؟
سائل کی ساس ( بیوی کی ماں ) چونکہ شرعاً سائل کی محرم ہے، اس لئے سسر کے انتقال کے بعد بھی سائل کا اپنے بیوی بچوں سمیت اپنے سسرال میں رہنا جائز و درست ہے، بشرطیکہ کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو اگر کسی قسم کے فتنے کا اندیشہ ہو تو ساس سے علیحدہ ہونا لازم ہے۔
کما فی النتف فی الفتاوی: الحرمة المؤبدة بالسبب، وأما السبب فهو على عشرة أوجه وهي الرضاع والصهرية( الی قولہ) وأما الصهر فهم أربعة أصناف: أحدهم: أبو الزوج والجدود من قبل أبويه وإن علوا، يحرمون على المرأة وتحرم هي عليهم، دخل بها أو لم يدخل بها؛ لقوله تعالى: {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم}. والثاني: أم المرأة وجداتها من قبل أبويها وإن علون، يحرمن على الرجل ويحرم هو عليهن دخل بها أو لم يدخل؛ لقوله تعالى: {وأمهات نسائكم}". (ما یحرم بالصھریۃ،ص: 164، ط: سعید)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0