گناہ و ناجائز

بیٹی کو کسی اسکول میں ٹیچنگ کی اجازت دینے کا حکم

فتوی نمبر :
88734
| تاریخ :
2025-11-11
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بیٹی کو کسی اسکول میں ٹیچنگ کی اجازت دینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے اپنی بہن کی شادی کی تھی، لیکن وہاں سے اسے طلاق ہوگئی ہے، جس کوتقریباً عرصہ تین سال گزرچکے ہیں۔ وہ کافی عرصہ سے بضد ہے کہ میرا شناختی کارڈ بناکر دو ، تاکہ میں کسی اسکول وغیرہ میں ٹیچنگ کروں، جبکہ ہم سب بھائی اس کو منع کررہے ہیں کہ ہمارے خاندان میں ایسا نہیں ہوتا، کسی قسم کی کفالت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے، تمام بھائی خرچہ دیتے ہیں، لیکن پھر بھی وہ اس بات پر بضد ہے۔ اب ہمارے والد صاحب جو کہ دوسری شادی کرکے الگ رہ رہے ہیں، وہ ہماری اس بہن کو شناختی کارڈ بنواکر دینے پر راضی ہوگئے ہیں۔ کیا والد کا ہماری بہن کو ا س طرح اجازت دینا درست ہے؟ اور اگر بیٹے والد سے یہ مطالبہ کریں کہ اگر آپ کی اجازت سے وہ پڑھائے گی تو پھر آپ اس کو اپنے ساتھ یعنی دوسری بیوی کے گھر میں رکھیں، کیا ایسا مطالبہ کرنا درست ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ شریعتِ مطہرہ نے عورت پر کسبِ معاش کی ذمہ داری نہیں ڈالی ہے، بلکہ مردوں کو کسبِ معاش کا مکلف بنایا ہے،لہٰذا اگر کسی عورت کا کوئی کفالت کرنے والا ہو تو اسے بلا ضرورت نوکری کے لئے گھر سے باہر نکلنا جائز نہیں، البتہ اگر کوئی کمانے اور کفالت کرنے والا نہ ہو تو بامرِ مجبوری نوکری کر سکتی ہے، بشر طیکہ نوکری کے لئے باپردہ ہو کر جائے اور کام کی جگہ پر نامحرم مردوں کے ساتھ اختلاط بھی نہ ہو، آنے جانے کے راستے بھی محفوظ ہوں، شوہر یاولی کی اجازت ہو اور نوکری بھی جائز ہو ۔
لہٰذا صورتِ مسؤلہ کے مطابق جب سائل کی بہن کو اپنے والد اور بھائیوں کی طرف سے نان و نفقہ کے تمام ضروری اخراجات مل رہے ہوں اور ان کی طرف سے کسی قسم کی کفالت کا کوئی مسئلہ نہیں تو پھر ا سے بلاضرورت بھائیوں سے ٹیچنگ کےلئے اجازت کا مطالبہ کرنا مناسب نہیں، جس سے احتراز چاہیئے۔ جبکہ سائل کے والد کا اپنی بیٹی کو بلاضرورت ملازمت کےلئے گھر سے باہر نکلنے جیسے معاملہ میں سپورٹ فراہم کرنا درست نہیں۔ لہٰذا دونوں فریقوں پر لازم ہے کہ اس مسئلہ کو آپس کے اتفاقِ رائے اور افہام و تفہیم سے حل کرنے کی کوشش کریں اور اس معاملہ کی وجہ سے گھریلو ناچاقی اور ایک دوسرے سے قطع تعلقی جیسے طرزِ عمل اختیار کرنے سے اجتناب برتیں۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في القرآن المجید: و قرن في بيوتكنّ و لا تبرجن تبرج الجاهلیة الأولى) الآیۃ۔ (سورۃ الأحزاب، آیت نمبر:33)۔
و فیہ أیضاً:(یا أیھا النبی قل لأأزواجک و بناتک و نساء المؤمنین یدنین علیھن من جلابیبھن ذالک أدنی أن یعرفن فلا یؤذین و کان اللہ غفورا رحیما) الآیۃ۔ (سورۃ الأحزاب، آیت نمبر:59)۔
و في الفتاوى الھندية: تجب على الرجل ‌نفقة ‌امرأته ‌المسلمة و الذمية و الفقيرة و الغنية دخل بھا أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلھا كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة إلخ۔ (الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج 1، ص 544، ط : دار الفكر، بيروت)-
و فی الفقہ الإسلامی و أدلتہ: ‌إذا ‌عملت ‌الزوجة نھاراً أو ليلاً خارج المنزل كالطبيبة و المعلمة و المحامية و الممرضة و الصانعة، فالمقرر في القانونين المصري و السوري أنه إذا رضي الزوج بخروجھا و لم يمنعھا من العمل، وجبت لھا النفقة؛ لأن احتباس الزوجة حق للزوج، فله أن يتنازل عنه (إلى قوله) و للزوجة أن تعمل في البيت عملاً لا يضعفھا و لا ينقص جمالھا، و للزوج أن يمنعھا مما يضرها إلخ۔ (المسألة الثانية:الزوجة العاملة أو الموظفة، ج 10، ص 7378-7380، ط: دار الفكر، دمشق)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالروف نواز عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88734کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات