گناہ و ناجائز

حکومتی ریٹ کو بنیاد بنا کر تاجروں کا ملاوٹ کرکے اشیاء کو اپنی من مانی سے مہنگا بیچنا

فتوی نمبر :
88744
| تاریخ :
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

حکومتی ریٹ کو بنیاد بنا کر تاجروں کا ملاوٹ کرکے اشیاء کو اپنی من مانی سے مہنگا بیچنا

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ (۱) کیااسلام میں روز مرہ کی اشیاء کی چیزوں پر حکومت کی جانب سے قیمت کا مقرر کرنا جائز ہے؟ (۲) حکومت کی مقررہ کردہ قیمت پر اشیاء فروخت کرنے کے لیے دوکاندار اشیاء کا معیار کم کر دیتے ہیں اور بیشتر تو ملاوٹ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اس ملاوٹ سے انسانی صحت پر اثرات کا ذمہ دار کون؟ (۳) بیشتر دوکانداروں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ اپنے گاہک کو اعلیٰ معیار کی اشیاء فروخت کر لے، مگر حکومت کی جانب سے مقرر کردہ قیمت کی وجہ سے وہ ایسا کرنے سے قاصر ہیں، کیونکہ حکومت کی قیمت اور ان اشیاء کو بنانے کی قیمت میں واضح فرق ہوتا ہے، اعلیٰ معیار کی اشیاء گاہک تک نہ پہنچانے کا ذمہ دار کون ؟ حکومت یا دکاندار ؟
نوٹ : سائل کا کاروبار آٹے کا ہے ،اس کی ایک فیکٹری ہے۔ فقط

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

قیمتوں کا تعیین اصلاً حاکم وقت کا کام نہیں، شرعاً اسکا دارومدار بازار کی فطری روش پر ہے، تاہم اگر لوگ اشیاء کو من مانی قیمتوں سے فروخت کرنے لگیں اور عام عوام کو دشواری ہونے لگے تو حکومت اشیاء کی قیمتیں بھی مقرر کر سکتی ہے، لیکن حکومت کو بھی چاہئیے کہ ایسی قیمتیں مقرر نہ کریں جس سے لوگ ملاوٹ کرنے پر مجبور ہو جائیں۔ جبکہ حکومتی ریٹ مقرر ہونے کے بعد بھی خالص اشیاء اور اعلیٰ معیار کی چیزیں گاہک تک پہنچانا ممکن ہے، اس لیے محض زیادہ کمانے کی فکر میں حکومتی ریٹ کو بنیاد بنا کر ملاوٹ کرنا دھوکہ اور گناہ ہے، جس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

ففی البحر الرائق شرح كنز الدقائق: قال - رحمه الله -: (ولا يسعر السلطان إلا أن يتعدى أرباب الطعام عن القيمة تعديا فاحشا) لقوله - عليه الصلاة والسلام - «لا تسعروا فإن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق» ولأن الثمن حق البائع وكان إليه تقديره فلا ينبغي للإمام أن يتعرض لحقه إلا إذا كان أرباب الطعام يحتكرون على المسلمين ويتعدون في القيمة تعديا فاحشا وعجز السلطان عن منعه إلا بالتسعير بمشاورة أهل الرأي اھ (8/ 230)
وفی صحيح الترغيب والترهيب: وعن عبد الله بن شقيق: أنه أخبره من سمع النبي - صلى الله عليه وسلم - وهو بـ (وادي القرى) (2)، وجاء رجل فقال: استشهد مولاك، أو قال: غلامك فلان. قال: "بل يجر إلى النار في عباءة غلها". (2/ 124)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
لعل محمد ولی عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 88744کی تصدیق کریں
0     31
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات