السلام علیکم ! میں آپ سے ایک اہم مسئلہ میں رہنمائی اور فتویٰ کی درخواست کرتی ہوں، براہ کرم حنفی فقہ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔میری شادی شدہ زندگی میں میرے شوہر نے مجھے الگ الگ وقتوں پر تین تحریری طلاقیں دیں، لیکن ہر طلاق کے درمیان عدت کے حوالے سے کچھ خاص صورتحال پیش آئی، جس پر میں وضاحت چاہتی ہوں۔میرے شوہر نے پہلی طلاق مجھے تحریری طور پر دی، اور اس کے اگلے دن مجھے حیض آ گیا۔ اس طلاق کے بعد میری عدت شروع ہوئی۔تقریباً ایک ماہ بعد، جبکہ مجھے دوسرا حیض آ چکا تھا ، میرے شوہر نے دوسری طلاق بھیج دی۔اس کے بعد تیسرا حیض بھی آیا اور مکمل ہوا، لیکن اس دوران کوئی طلاق نہیں آئی۔ اس طرح میں نے تین حیض مکمل کیے اور میری عدت مکمل ہو گئی، اور نکاح ختم ہو گیا۔عدت مکمل ہونے کے بعد، کچھ دن بعد میرے شوہر نے تیسری تحریری طلاق بھیج دی۔میری معلومات کے مطابق، چونکہ تیسری طلاق عدت کے بعد دی گئی، اور اس وقت میں نکاح میں نہیں تھی، اس لیے وہ طلاق شمار نہیں ہوتی۔براہ کرم ان سوالات کے جوابات عطا فرمائیں:
کیا پہلی اور دوسری طلاق ہی معتبر ہوں گی؟
کیا تیسری طلاق (جو عدت کے بعد دی گئی) شمار نہیں ہوگی؟
کیا میں اپنے شوہر سے نئے نکاح اور مہر کے ساتھ بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح کر سکتی ہوں؟اللہ آپ کو جزائے خیر دے!
صورتِ مسئولہ میں سائلہ نے شوہر کی طرف سے ارسال کردہ طلاق نامہ ارسال نہیں کیا اور نہ ہی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ :طلاق کے تینوں نوٹس ایک ساتھ ہی تیار کروائے گئے تھے، یا ہر مرتبہ ارسال کرنے سے قبل الگ الگ تیار کیے گئے ہیں ،تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر اس کے شوہر نے طلاق کے تینوں نوٹس ایک ہی وقت میں تیار کروائے ہوں اور اگرچہ تاریخ ہر ایک پر الگ الگ درج ہو اور وقفے وقفے سے بھیجے ہو، تو ایسی صورت میں طلاق کا نوٹس تیار کروانے کے وقت سے ہی سائلہ پر تینوں طلاق واقع ہوکر حرمتِ مغلظہ ثابت ہوچکی ہے، اب رجوع نہیں ہو سکتا،اور حلالۂ شرعیہ کے بغیر دوبارہ باہم عقدِ نکاح بھی نہیں ہو سکتا ، جبکہ سائلہ ایامِ عدت(3 ماہواریں) گزرنے کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے میں بھی آزاد ہے،البتہ اگر سوال کی نوعیت کچھ اور ہو تو اس کی مکمل تفصیل اور طلاق نامہ کی کاپی ارسال کرکے مکرر معلوم کیا جا سکتا ہے۔
کما فی الدر المختار: ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل: ابعث به إليها، أو قال له: اكتب نسخة وابعث بها إليها، وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة، وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه الخ(كتاب الطلاق، ج:3، ص:246، ط:سعيد)۔
و فيه أيضاً: ولو قال للكاتب: اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب الخ (كتاب الطلاق، مطلب في الطلاق بالكتابة ، ج:3، ص:246، ط:سعيد )
وفي الفتاوى الهندية: وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة الخ( الفصل السادس في الطلاق بالكتابة ، ج: 2 ، ص: 255 ، ط: رشيدية )۔
و فی الہدایة : و إن كان الطلاق ثلاثا في الحرة أو ثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا و يدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها الخ(كتاب الطلاق، فصل فيما تحل به المطلقة، ج:2، ص:257، ط: دار إحياء التراث العربي)۔
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0