جب میں بہت چھوٹا تھاتو میرے تایا اور دادا مجھے امریکہ لے گئے تھے، اسی ماحول میں میری پرورش ہوئی، کیونکہ میرے والدین اس وقت پاکستان میں ہی رہتے تھے، انہی برسوں میں میری شادی بھی ہوگئی، تقریباً 18 سے 20 سال بعد میرے اصل والدین بھی امریکہ آگئے، اب مسئلہ یہ ہے کہ کچھ معاملات میں میرے تایا اور والدین دونوں مختلف باتیں کہتے ہیں، تایا کچھ اور کرنے کو کہتے ہیں، جبکہ والدین اس کے برعکس کہتے ہیں، ایسے میں مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کس کی بات مانوں، تایا کی یا والدین کی؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ سائل کے والدین اور تایا کن معاملات میں سائل کو مختلف ہدایات دیتے ہیں،تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر والدین اور تایا میں سے کوئی خلاف شرع کام کرنے کا حکم نہ دیتےہوں، اور ان کی باتیں شرعاً درست اور مناسب ہوں، تو اگر چہ والدین کا حق اور درجہ تایا پر مقدم ہےاور ان ہی کی اطاعت لازم ہے، لیکن بہتر یہی ہے کہ سائل حسنِ اخلاق، حکمت اور متوازن رویّےکے ساتھ والدین اور تایا کا احترام ملحوظ رکھے، اور ایسے سلیقے اور طریقے سے دونوں جانب کالحاظ کرتے ہوئے عملی اقدامات کیا کرےتاکہ کسی کے دل میں ملال یا ناراضی پیدا نہ ہو۔
کما فی جامع الترمذی: حدثنا بھز بن حکیم حدثنی أبی عن جدی رضی اللہ عنہ قال قلت یا رسول اللہ من ابرّ؟ قال امّک قلت ثم من؟ قال: امّک قال: قلت ثم من؟ قال امّک قال: قلت ثم من؟ قال: ثم اباک ثم الاقرب فالاقرب الخ
وفیہ ایضاً: عن عبد الرحمن بن ابی بکرۃ عن ابیہ رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہﷺ الا احدثکم باکبر الکبائر؟ قالوا بلیٰ یا رسول اللہ قال: الاشراک باللہ وعقوق الوالدین قال وجلس وکان متکئا فقال وشھادۃ الزور الخ (باب ماجاء فی عقوق الوالدین، ج2، ص687، ط: بشری)۔
وفیہ ایضاً: قل عبد الرحمن سمعت رسول اللہﷺ یقول قال اللہ تبارک وتعالی انا اللہ وانا الرحمن خلقت الرحم وشققت لھا من اسمی فمن وصلھا وصلتہ ومن قطعھا بتتّہ الخ (باب ماجاء فی قطیعۃ الرحم، ج2، ص689، ط: بشری)۔