السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! میرا ایک پینٹ کا شاپ ہے، ہم ایک کمپنی کے ساتھ سالانہ معاہدہ کرتے ہیں، جس کے تحت کمپنی ہمیں ایک سیل ٹارگٹ دیتی ہے، مثلاً ایک کروڑ روپے سالانہ ، اور یہ مال کمپنی ہمیں اوگری سسٹم پر دیتا ہے ، کمپنی ہمیں مال کی فروخت پر 10٪ ڈسکاؤنٹ دیتی ہے، اور سال کے اخر مہینوں میں کمپنی کبھی خود کبھی ہم ڈیمانڈ کرتے ہیں، اور ہر مہینے کے آغاز میں یہ بھی بتاتے ہے کہ اگر ہم اُس مہینے میں مقررہ رقم (مثلاً 20 لاکھ روپے) ادا کریں تو ہمیں 2٪ کیش ڈسکاؤنٹ مزید ملے گا، اگر کم ادائیگی کریں تو یہ ڈسکاؤنٹ نہیں ملتا، کیا یہ 2٪ ڈسکاؤنٹ سود (ربا) میں آتا ہے؟
صورت مسئولہ میں اگر کمپنی کی طرف سے یہ %2 رعایت بطور تشجیع دی جاتی ہو ، یعنی مقررہ مدت یا مہینے کے اندرمخصوص مقدار کی ادائیگی کرنے پر قیمت میں کمی کر دی جاتی ہو، تو یہ معاملہ شرعاً سود (ربا) کی بجائے بائع کی طرف سے حط ثمن ( قیمت میں کمی) شمار ہوگا، جوکہ جائز ہے ، جس کے لینے میں کوئی حرج نہیں ۔
کمافي الفتاوى الهندية: حط بعض الثمن صحيح ويلتحق بأصل العقد عندنا كالزيادة سواء بقي محلا للمقابلة وقت الحط أو لم يبق محلا كذا في المحيط إذا وهب بعض الثمن عن المشتري قبل القبض أو أبرأه عن بعض الثمن فهو حط فإن كان البائع قد قبض الثمن ثم حط البعض أو وهب بأن قال وهبت منك بعض الثمن أو قال حططت بعض الثمن عنك صح ووجب على البائع رد مثل ذلك على المشتري اھ (3/ 173)-
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1