کیا فرماتے ہیں علماء کرام مندرجہ ذیل مسئلہ میں کہ میں مسمی ش کا نکاح مسماۃ ص سے آج سے تقریبا ً چار سال قبل ہو گیا تھا ،اس شادی سے ہمارا ایک بیٹابھی ہے ، میری بیوی میری اجازت کے بغیر تقریبا تین سال سے اپنے والدین کے گھر بیٹھی ہوئی ہے ،میں نے ہر قسم کی کوشش کی لیکن وہ نہیں مانتی میرا بیٹا بھی ان کے پاس ہے ،اور اب میرے خلاف نان نفقہ کا کیس کیا ہوا ہے ،تو معلوم یہ کرنا ہے کہ کیا اس صورت میں وہ نان نفقے کی حقدار ہے کہ نہیں ؟
سائل کا بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیت ہو ، اس میں کسی قسم کی غلط بیانی اور جھوٹ سے کام نہ لیا گیا ہو، اس طور پر کہ سائل کی بیوی اس کی اجازت کے بغیر اور بغیر کسی عذر شرعی کے عرصہ تین سال سے اپنے والدین کے گھر رہ رہی ہو تو وہ ناشزہ (نافرمان) ہے، اس کا نان و نفقہ سائل پر لازم نہیں ، لہذا اس کا سائل کے خلاف کیس کرنا اور نان نفقے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست نہیں ،البتہ بچے کا خرچہ سائل کی مالی وسعت کے مطابق اس پر لازم ہے ۔
کما فی الدر المختار: (لا) نفقۃ لأحد عشر: مرتدۃ و مقبلۃ ابنہ(الی قولہ) و (خارجۃ من بیتہ بغیر حق ) و ھی الناشزۃ حتی تعود ولو بعد سفرہ الخ ( باب النفقۃ ( ج:3،ص:575،ط: سعید)۔
و في الهندية: وإن نشزت فلا نفقة لها حتى تعود إلى منزله والناشزة هي الخارجة عن منزل زوجها المانعة نفسها منه الخ (ج:1 ص: 545،ط:ماجدیۃ)۔
و فیھا أیضا: نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحدالخ (ج:1،ص: 560ط:ماجدیۃ)۔
و فی بدائع الصنائع: قولہ تعالی و علی المولودلہ رزقھن وکسوتھن بالمعروف مطلقا عن التقدیر فمن قدر فقد خالف النص ولأنہ أوجبھا باسم الرزق ورزق الانسان کفایتہ فی العرف و العادۃ الخ (کتاب النفقۃ ج:4،ص:23،ط:سعید)۔