اگر کوئی حیض کی حالت میں عمرہ کر لے تو پاک ہونے کے بعد دوبارہ عمرہ کرنے سے دم ختم ہو سکتا ہے یا 3 دن روزہ رکھ سکتا فدیہ کے طور پر اگر کوئی دم دینے کی استطاعت نہیں رکھتا ؟
واضح ہو کہ حیض کی حالت میں طواف کرنا منع ہے ،لہذا کوئی عورت اگر حیض کی حالت میں طواف کرلے تو وہ دوبارہ مکمل عمرہ کرنے کے بجائے صرف طواف کا اعادہ کر لے تو سابقہ نا پاکی کی حالت میں کیے جانے والے طواف سے جو دم لازم ہوا تھا، وہ ساقط ہو جائے گا، اگر اعادہ ممکن نہ ہو کہ گھر واپس آ گئی ہو اور دوبارہ جانے کی کوئی صورت بھی نہ ہو تو ایسی صورت میں حدود ِ حرم میں دم دینا ہی لازم ہوگا، فدیہ و روزوں سے یہ فریضہ ساقط نہ ہوگا، البتہ اگر ایسی عورت دوبارہ نئے سرے سے عمرہ کا احرام باندھ لیتی ہے تو ایسی صورت میں جدید عمرہ کے لئے کیا جانے والے طواف سے سابقہ ناقص طواف کا دم ساقط نہ ہوگا۔
کما فی غنیۃ الناسک: و لو طاف للعمرۃ کلہ، أو أکثرہ، أو أقلہ، و لو شوطاً جنباً، أو حائضاً، أو نفساء، أو محدثاً، فعلیہ شاۃ، لا فرق فیہ بین الکثیر و القلیل و الجنب و المحدث؛ لأنہ لا مدخل فی طواف العمرۃ للبدنۃ، و لا للصدقۃ، بخلاف طواف الزیارۃ، و کذا لو ترک الأقل منہ، و لو شوطاً لزمہ دم، و لو أعادہ سقط عنہ الدم (الی قولہ) متی طاف أی طواف مع أی النقصان، ثم أعادہ سقط موجبہ الخ (المطلب الرابع فی ترک الواجب فی طواف العمرۃ، ص: 276-277، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ)۔
و فیھا ایضاً: و متی وجب الدم عیناً، أو الصدقۃ عیناً، لا یجوز عن الدم طعام و لا صیام، و لا عن صدقۃ صیام الخ (فصل فیما اذا ارتکب المحذورات، ص: 261، ادارۃ القرآن و العلوم الاسلامیۃ)۔