گناہ و ناجائز

آئسٹر ساس حلال ہے یا حرام؟

فتوی نمبر :
89306
| تاریخ :
2025-11-29
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

آئسٹر ساس حلال ہے یا حرام؟

میرے گھر جو آئسٹر ساس (oyster sauce) کی شیشی آئ ہے اسکے اجزاء میں لکھا ہے 1٪ آئسٹر ایکسٹراٹ ہے۔۔ اب کیا وہ حلال ہے یا حرام ۔۔کیونکہ عموما پاکستان میں حلال آئسٹر ساس ملتا ہے جو مشروم سے بنتا ۔۔اس والے کا مجھے علم نہیں تھا گھر پے آجانے کے بعد اسکے اجزاء پڑھے ۔۔کچھ گنجائش کی صورت ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ا وئسٹر ((oyster)سمندر میں پائی جانے والی سیپی کے اندر موجود کیڑے کو کہا جاتا ہے ، یہ کیڑا مچھلی نہیں بلکہ اس کے علاوہ سمندری جانور ہوتا ہے ، اور پا کستان حلال اسٹینڈرڈز اور فقہ حنفی کی رو سے اس کا استعمال درست نہیں ،البتہ اگر اوئسٹر قدرتی اور سمندری کے بجائے مصنوعی ہو جس کو Oyster synthetic/identical کہا جاتا ہے ،یا بعض اوقات اوئسٹر فلیور لکھا ہوتا ہے تو اس کا استعمال جائز ہے ،لہذا سائلہ کو اگر کسی خاص کمپنی کے اوئسٹر ساس کے بارے میں وضاحت مطلوب ہے تو برئے مہربانی کمپنی کا نام اور پراڈکٹ کی اجزائے ترکیبی کی تفصیل مع مکمل تصاویر ای میل پر بھیج دیں ،تو اس پر غور و فکر کے بعد حکم شرعی سے آگاہ کیا جاسکتا ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

لما فی الھدایۃ : و لایؤکل من حیوان الماء الاالسمک (کتاب الذبائح ، ج:4 ، ص:77، ط : البشری)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالصمد عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89306کی تصدیق کریں
0     228
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات