گناہ و ناجائز

نامحرم کلاس فیلو لڑکوں کے ساتھ ریسٹورانٹ میں ملنے جلنے بیٹھنے کا حکم

فتوی نمبر :
89374
| تاریخ :
2025-11-30
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

نامحرم کلاس فیلو لڑکوں کے ساتھ ریسٹورانٹ میں ملنے جلنے بیٹھنے کا حکم

السلام علیکم! مفتی صاحب! آج کل کے ماحول سے آپ بخوبی واقف ہیں۔ میری دختر ماشاءاللہ اپنی تعلیم مکمل کرکے اب جاب کر رہی ہے ایک اچھے ادارے میں اور کافی حد تک خود مختار ہے، ابھی اس کے لئے مناسب رشتے کی تلاش ہے۔ اس کے یو نیورسٹی کے کچھ پرانے دوست لڑکے اور لڑکیاں ہفتہ وار ملاقات کرتے ہیں، اتوار اور کبھی کبھار ہفتے کی شام۔ اب تقریباً لڑکیوں کی شادی ہو گئی ہے اور ان کے لڑکے دوستوں کا یہی معمول ہے، ہم نے اسے اکیلے لڑکوں کی محفل میں جانے سے منع کیا، تو وہ ناراض ہونے لگی کہ: پہلے آپ کو کوئی اعتراض نہیں تھا اور اب آپ منع کر رہے ہیں۔ اب ایسی صورت حال میں جبکہ ہمیں یہ پتہ ہے کہ: کسی کے گھر میں نہیں بلکہ ایک مڈل کلاس ریسٹورنٹ وغیرہ میں بیٹھ کر ملاقات کرتے ہیں جہاں بہت سے لوگ موجود ہوتے ہیں، اور ہمیں یہ بھی پتہ ہے کہ ہماری بیٹی کی بہت اچھے ماحول میں تربیت ہوئی ہے اور اسے زمانے کے اتار چڑھاؤ سے بھی معلومات ہیں، اس کا یہ خیال ہے کہ شاید ہم اب اس پر مکمل اعتماد نہیں کرتے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں، ہم نے اسے کہا کہ اسلامی اعتبار سے ہم اس کو روکنے اور منع کرنے کا حق رکھتے ہیں، تا وقتیکہ اس کی شادی ہوجائے۔ اسلامی اعتبار سے شام اور رات گئے تک اکیلی لڑکی کا اپنے مرد دوستوں کے ساتھ ہوٹل اور ریسٹورنٹ وغیرہ میں بیٹھنا ٹھیک ہے یا نہیں؟ جزاک اللہ خیر !

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نامحرم مرد و عورتوں کا بلا ضرورت آپس میں میل جول ، بلا ضرورت بات چیت اور گپ شپ کرنا ، رات گئے تک ملاقاتیں کرنا اوردوستانہ تعلقات رکھنا شرعاً نا جائز و حرام ہے، جس سے ہر مسلمان مرد و عورت کو اجتناب لازم ہے۔
لہذا اولاً تو والدین کی جانب سے بچی کو دوران تعلیم ہی حدود شرعیہ کی تعلیم و تلقین کرنی چاہیئے تھی ، تاکہ اب اس کی طرف سے حدود شرعیہ کی پامالی نہ ہوتی ، جس کی بناء پر اب والدین کو پریشانی لاحق ہے ، تاہم اب مذکور ہ بیٹی کو بھی چاہیئے کہ والدین کا اس غیر شرعی ملنے جلنے سے بچنے کی تلقین کو اپنی انا کا مسئلہ نہ بنائے، بلکہ اسے شریعت کا حکم سمجھ کر ان تمام تعلقات کو مکمل طور پر ختم کر دے، تاکہ اس کی آخرت میں سرخروئی کے ساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی کسی فتنہ اور پریشانی میں مبتلا ہونے سے حفاظت ہوسکے، اور اب تک جو کچھ ہو چکا اس پر اللہ تعالی کی بارگاہ میں صدق دل سے توبہ و استغفار اور آئندہ سے مکمل اجتناب کرے، امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالی در گزر کا معاملہ فرمائیں گے۔
جبکہ والدین پر بھی اپنی بیٹی کو حکمت و بصیرت کے ساتھ مناسب انداز میں سمجھانا اور اس عمل کے کراہت سے آگاہ کرنا لازم ہے، تاکہ محض وقتی جذبات کی وجہ سے والدین کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے نکاح کے بعد شیطان میاں بیوی کے درمیان بد گمانیاں پیدا کرنے کا موقع ہاتھ نہ آسکے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89374کی تصدیق کریں
0     31
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات