السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام ہم موبائل پر ایک گیم کھیل رہے تھے تقریبا 4.5بندے تھے تو فیصلہ ہوا جو بندہ آخری نمبر پر آۓگا، وہ تمام دوستوں کو 50 روپیہ کی کھجور کھلاۓ گا بشمول خود، بعد میں کچھ نہ کہا، یہ جوا ہے؟کچھ کہ رہے تھے جوا نہیں ہے۔
واضح ہو کہ شریعت مطہرہ نے ہر ایسے کھیل جس میں مصلحت دینی یا دنیاوی ہو کھیلنے کی اجازت دی ہے، بشرطیکہ اس میں نہ تو کسی کھیلنے والے پر اس کے ہار جانے کی صورت میں رقم وغیرہ کی ادائیگی کی شرط لگائی جاتی ہو، اور نہ ہی اس میں اس قدر اتنا انہماک ہو کہ جس سے نماز یا کسی دوسرے فرض و واجب میں خلل پڑتا ہو، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکورہ گیم چونکہ جانبین سے ہار جیت کی شرط پر کھیلی گئی ہے جوکہ جوا (قمار) کے حکم میں داخل ہونے کی وجہ سے شرعاً ناجائز و حرام ہے،اس لئے آئندہ اس طرح کی شرط پر کھیلنے سے اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: یٰا یھا الذین آمنوا إنما الخمر و المیسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشیطان فا جتنبوہ لعلکم تفلحون الآیۃ (سورۃ المائدۃ، آیت 9 )۔
وفی تکملة فتح الملهم : فالضابط في هذا الباب عند مشایخنا الحنفیۃ المستفاد من اصولھم واقوالھم أن اللهو المجرد الذي لا طائل تحته، وليس له غرض صحيح مفيد في المعاش و لا المعاد حرام أو مكروه تحريماً ، وھذا امر مجمع علیہ فی الامۃ ، متفق علیہ بین الامۃ و ما كان فيه غرض و مصلحة دينية أو دنيوية ، فإن ورد النهي عنه من الكتاب أو السنة (کما فی النرد شیر) كان حراماً أو مكروهاً تحريماً ، (إلی قوله) و أما مالم يرد فيه النهي عن الشارع و فيه فائدة و مصلحة للناس ، فهو بالنظر الفقهي علي نوعين ، الأول ما شهدت التجربة بأن ضرره أعظم من نفعه و مفاسده أغلب علي منافعه ، و أنه من اشتغل به ألهاه عن ذكر الله وحده و عن الصلاة و المساجد التحق ذلك بالمنهي عنه لاشتراك العلة فكان حراماً أو مكروهاً ، و الثاني ماليس كذالك فهو أيضاً إن اشتغل به بنية التلهي و التلاعب فهو مكروه وإن اشتغل به لتحصيل تلك المنفعة وبنية استجلاب المصلحة فهو مباح، (الی قوله) وعلى هذا الأصل فالألعاب التي يقصد بها رياضة الأبدان أو الأذهان جائزة في نفسها، ما لم تشتمل على معصية أخرى، وما لم يؤد الانهماك فيها إلى الإخلال بواجب الإنسان في دينه ودنياه الخ(باب تحریم اللعب بالنرد شیر، ج 4، ص 435، ط: دارالعلوم کراچی)
وفی الدر المختار: (إن شرط لمال) فی المسابقۃ (من جانب واحد وحرم لوشرط) فیھا (من الجانبین) لأنہ یصیر قمارا (إلا إذا دخلا ثالثا) (إلی قولہ) وفیما بینھما أیھما سبق أخذ من صاحبہ (و) کذا الحکم (فی المتفقھۃ) الخ
وفی الشامیۃ تحت: (قولہ من الجانبين) بأن يقول إن سبق فرسك، فلك علي كذا وإن سبق فرسي، فلي عليك كذا زيلعي وکذا إذا قال إن سبق إبلک أو سھمک الخ تاتر خانیۃ (قوله لأنہ یصیر قمارا) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ وینقص أخری، وسمی القمار قمارا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ إلی صاحبہ، ویجوز أن یستفید مال صاحبہ وھو حرام بالنص الخ(کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ج 6، ص 403، ط: سعید)۔
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1