گناہ و ناجائز

مارگیج پر گھر لینے کی ایک صورت کا حکم

فتوی نمبر :
89435
| تاریخ :
2025-12-02
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مارگیج پر گھر لینے کی ایک صورت کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میں گزشتہ آٹھ سال سے ناروے میں مقیم ہوں۔ یہاں رہائش کا شدید بحران ہے، کرایوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں، اور طویل مدتی کرایہ حاصل کرنا مشکل ہو چکا ہے۔ میں نے مارگیج (Mortgage) کے بارے میں تمام دستیاب فتاویٰ پڑھ رکھے ہیں اور مجھے معلوم ہے کہ سود لینا دینا شرعاً ناجائز ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ناروے میں کوئی اسلامی متبادل جیسے مرابحہ، مشارکہ یا اسلامی فنانسنگ وغیرہ سرے سے موجود نہیں ہے، اور تمام مسلمان یہاں مجبوری میں سودی مارگیج ہی لیتے ہیں۔

میری تشویش کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ مجھے دو مرتبہ بچوں کے سرکاری ادارے (Child Protection Department) کی طرف سے غلط شکایت پر بلایا گیا کہ میرے چار بچوں کو مجھ سے لیا جائے۔ ادارے نے باریک بینی سے میری فیملی کا جائزہ لیا، ہماری خوشگوار خاندانی زندگی کو دیکھا اور دونوں بار اُن جھوٹی شکایات کو مسترد کر دیا۔
لیکن اس واقعے نے ہمیں مسلسل ذہنی دباؤ میں رکھا ہوا ہے۔ یہاں کوئی بھی شخص دشمنی یا بغض کی بنیاد پر شکایت کر سکتا ہے، اور ناروے اس حوالے سے انتہائی بدنام ہے۔ یہاں مسلمانوں کے گھروں سے بچوں کو لینے کے واقعات عام ہیں، اور اس پر بالی ووڈ کی ایک فلم بھی بنی ہے جو اصل صورتِ حال کو واضح کرتی ہے۔

اگر ہمارا مستقل گھر نہ ہو، کرائے کی وجہ سے بار بار گھر تبدیل کرنا پڑے، یا رہائش مناسب نہ ہو تو بچوں کو سرکاری تحویل میں لے لیے جانے کا خطرہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ یہ معاملہ نہ صرف ہماری عزت کا بلکہ ہمارے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت اور مستقبل کا بھی بڑا مسئلہ ہے۔

لہٰذا اس خطرناک اور مجبوری کی صورتِ حال میں — جب:
کوئی اسلامی متبادل موجود نہ ہو،
کرائے پر گھر ملنا مشکل ہو،
اور بچوں کی حفاظت و خاندان کی بقا کا حقیقی اندیشہ ہو —

کیا شرعی طور پر ہمارے لیے سودی مارگیج کے ذریعے گھر خریدنا جائز ہو سکتا ہے؟
براہِ کرم ہماری مخصوص صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے واضح شرعی رہنمائی فرمائیں۔

جزاکم اللہ خیراً

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ ”سود"“شریعتِ مطہَّرہ میں حرام ہے اور سودی لین دین پر قرآن مجید میں سخت وعید آئی ہے لہذا کسی بھی مقصد کے لیے سودی معاملات اختیار کرنے کی شرعاً اجازت نہیں۔ جبکہ سائل کو چاہئیے کہ کوئی دیگر جائز ذریعہ اختیار کرے مثلاً کسی دوست وغیرہ سے قرض حسنہ لے لے یا کسی بھی شخص یا کمپنی سے قسطوں پر خریداری کا معاملہ کر کے مکان حاصل کرے۔ بصورت دیگر صبر و تحمل کے ساتھ کرایہ داری کی صورت پر قناعت کرتے ہوئے احکام شرعیہ بجا لانے کی کوشش کرے۔ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کرتا رہے کہ وہ آسانی کے اسباب مہیا کرے۔ امید ہے کہ احکامِ شرعیہ کی لاج رکھتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے مانگیں گے تو ضرور اللہ تعالی کوئی سبیل بنا لے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في صحيح للإمام مسلم: عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم اٰكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال (هم سواء).(ج:2،رقم الحديث:4092).
وفي بحوث في قضايا فقهيه معاصرة : أما الائمه الأربعةوجمهور الفقهاء والمحدثين فقد أجازوا البيع المؤجل بأكثر من سعر النقد بشرط أن يبت العاقدان بأنه بيع مؤجل بأجل معلوم بثمن متفق عليه عند العقد.(ج:1،ص:12، احكام البيع بالتقسيط)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89435کی تصدیق کریں
0     29
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات