السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
امید ہے آپ خیریت اور ایمان کی بہترین حالت میں ہوں گے۔ میں اپنی صحت اور نماز کی صحیح ادائیگی سے متعلق ایک اہم مسئلے میں آپ محترم کی رہنمائی کا خواہاں ہوں۔
مجھے شدید قسم کی الرجی ہے ،جو معمولی ٹھنڈ یا سرد ماحول کے ذرا سے بھی اثر سے شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں اکثر گلے اور سینے میں انفیکشن ہو جاتا ہے، جس کے بعد بے چینی اور نیند میں خلل جیسی تکالیف لاحق ہو جاتی ہیں۔
مزید یہ کہ معدے کی حساسیت کے باعث میں اکثر ادویات بھی استعمال نہیں کر سکتا۔ انہی صحت کے مسائل کی وجہ سے سردیوں میں صبح سویرے فرض غسل (جنابت یا دیگر وجوہات کی بنا پر) کرنا میرے لیے انتہائی دشوار ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ جب میں گرم پانی سے بھی غسل کرتا ہوں تو سرد موسم کے اثر کی وجہ سے وہی الرجی اور دیگر پیچیدگیاں دوبارہ پیدا ہو جاتی ہیں۔
ان تمام حالات کے پیش نظر، میں مؤدبانہ طور پر آپ سے یہ دریافت کرنا چاہتا ہوں کہ کیا فجر کی نماز کے لیے میرے لیے تیمم کرنا شرعاً جائز ہوگا؟ مزید یہ کہ، چونکہ میں ایسے علاقے میں رہتا ہوں جہاں موسم بہت سرد رہتا ہے، اور ٹھنڈ کی وجہ سے میری صحت پر نقصان دہ اثرات مرتب ہوتے ہیں، تو کیا ایسی صورت میں میرے لیے گھر پر نماز ادا کرنا جائز ہوگا؟ اس معاملے میں آپ کی علمی اور شرعی رہنمائی میرے لیے نہایت قیمتی ہوگی۔ جزاکم اللہ خیراً۔
واضح ہو کہ وضو اور غسل کرنے کے بجائے تیمم کی اجازت صرف اس صورت میں ہوتی ہے جہاں پانی کے استعمال پر قدرت نہ ہو ،خواہ یہ عدم قدرت پانی کی عدم موجودگی کی وجہ سے ہو یا پانی موجود ہو لیکن اس کے استعمال کرنے کی صورت میں انسان کے اعضاء و جوارح تلف ہونے یا ناقابل برداشت تکلیف اور بیماری لاحق ہونے کا یقین یا ظن غالب ہو ،محض بیماری کے ممکنہ خدشات کی وجہ سے وضو و غسل کے بجائے تیمم کرنے کی اجازت نہیں، لہذا اگر سائل کو اس بیماری اور ممکنہ تکلیف کی وجہ سے صبح کی نماز کے لیے غسل کرنے میں دقت پیش آتی ہو اور سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے گرم پانی استعمال کرنا بھی ممکن نہ ہو تو ایسی صورت میں بیوی سے ازدواجی تعلق قائم کرنے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کرے جس کے بعد غسل ممکن ہو سکے، البتہ اس عذر کی وجہ سے فجر کی نماز مسجد میں ادا کرنے کی بجائے گھر میں پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔
کما فی التاتارخانية :أو برد يهلك الجنب أو يمرضه ولو في المصر اھ(ج:1،ص:323)
وفی الدرالمختار :فصار الأصل أنه متى قدر على الاغتسال بوجه من الوجوه لا يباح له التيمم إجماعاً. (ج: 4،ص: 73)
و فی الفتاوى الهندية: ويجوز التيمم إذا خاف الجنب إذا اغتسل بالماء أن يقتله البرد أو يمرضه هذا إذا كان خارج المصر إجماعا فإن كان في المصر فكذا عند أبي حنيفة خلافا لهما والخلاف فيما إذا لم يجد ما يدخل به الحمام فإن وجد لم يجز إجماعا وفيما إذا لم يقدر على تسخين الماء فإن قدر لم يجز هكذا في السراج الوهاج . وإذا خاف المحدث إن توضأ أن يقتله البرد أو يمرضه يتيمم. هكذا في الكافي واختاره في الأسرار لكن الأصح عدم جوازه إجماعا كذا في النهر الفائق والصحيح أنه لا يباح له التيمم. كذا في الخلاصة وفتاوى قاضي خان. ولو كان يجد الماء إلا أنه مريض يخاف إن استعمل الماء اشتد مرضه أو أبطأ برؤه يتيمم. (ج:1،ص:28)
و فی الدر المختار: وأما المرض فالمقصود عليه سواء خاف من زيادة المرض أو طوله باستعمال الماء. (ج:1،ص:166)
و فیہ ایضا:(والجماعة سنة مؤكدة للرجال) ... (وقيل: واجبة وعليه العامة) أي عامة مشايخنا وبه جزم في التحفة وغيرها. قال في البحر: و هو الراجح عند أهل المذهب (فتسن أو تجب) ثمرته تظهر في الإثم بتركها مرة (على الرجال العقلاء البالغين الأحرار القادرين على الصلاة بالجماعة من غير حرج) ... ولو فاتته ندب طلبها في مسجد آخر إلا المسجد الحرام ونحوه (فلاتجب على مريض ومقعد وزمن ومقطوع يد ورجل من خلاف) أو رجل فقط،ولا على من حال بينه وبينها مطر وطين وبرد شديد وظلمة كذلك) وريح ليلا لا نهارا۔(ج:1،ص552)