السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا۔ گھر کے استعمال کیلئے واشنگ مشین گھر کے فرد نے بیچنے کی غرض سے رکھی تھی۔ تقریباً 11 ماہ تک وہ انکے پاس غیر استعمال تھی۔ ماہ ستمبر میں ہم نے ان سے اس بنا پر لی کہ ہر ماہ 5000 کی رقم ادا کریں گے۔ دوماہ کی رقم 10 ہزار ادا کر چکے ہیں۔ جنوری 2025 میں انہوں نے خریدی تھی تو اس وقت کی قیمت بل میں 96 ہزار لکھی ہوئ ہے۔ بل نہ ملنے کی وجہ سے ہم نے ان سے مشین لے لی۔ اور اب زیر استعمال ہے۔ بل ہمیں گزشتہ دو روز قبل ملا ہے۔ تو اب رقم کتنی ادا کرنی ہوگی۔ اب اس مشین کی رقم 86000 ہے۔ رہنمائی درکار ہے ۔
واضح ہو کہ متعاقدین کے درمیان بیع کرتے وقت جو قیمت طے کرلی جائے اسی کا اعتبار ہوتاہے لہذا صورت مسئولہ میں سائل نے ماہ ستمبر میں مذکور فرد سےواشنگ مشین خریدنے کے وقت جو بھی قیمت طے کرکے قسطوں پر مشین خریدی تھی وہی قیمت اداکرنی لازمی ہےچاہے وہ بل میں درج رقم سے کم ہو یا زیادہ
کما فی الھدایہ: وإذا بقي العقد وجبت القيمة، لكن عند أبي يوسف رحمه الله وقت البيع لأنه مضمون به (ج:3،ص:154)
وفی العنایۃ شرح الھدایۃ: وإذا بقي العقد قال أبو يوسف: وجب القيمة يوم البيع؛ لأنه مضمون بالبيع،(ج:7،ص:154)
وفی مجلۃ مجمع الفقہ الاسلامی: وإذا بقي العقد، وجبت القيمة، لكن عند أبي يوسف وقت البيع؛ لأنه مضمون به،(ج:9،ص:1034)
وفی البنایۃ(وإذا بقي العقد وجبت القيمة لكن عند أبي يوسف وقت البيع لأنه مضمون به) ش: أي لأن الثمن مضمون بالبيع فكان كالمغصوب يعتبر قيمته يوم الغصب، لأنه مضمون فيه، وعليه الفتوى، فإنه ذكر في " الذخيرة " وعليه قيمة الدراهم يوم وقع البيع في قول أبي يوسف الآخر وعليه الفتوى:
(ج:8،ص:413)