گناہ و ناجائز

مرد کی کمائی پر بیوی اور والدین میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟

فتوی نمبر :
89957
| تاریخ :
2025-12-12
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

مرد کی کمائی پر بیوی اور والدین میں سے کس کا حق زیادہ ہے؟

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ!
مرد کی کمائی پر سب سے زیادہ حق کس کا ہے، بیوی کا ہے یا والدین کا براہ ، مہربانی دلیل کے ساتھ وضاحت فرمائیں ۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ مرد کی کمائی پر حق داروں کے حقوق ان کی نوعیت کے اعتبار سے مختلف ہیں اس لیے مطلق طور پر یہ کہنا درست نہیں کہ سب سے زیادہ حق صرف بیوی کا ہے یا صرف والدین کا ،بلکہ ان حقوق کے درمیان شرعی اصولوں کے مطابق توازن پیدا کرنا ضروری ہے چنانچہ نکاح کے بعد شوہر پر بیوی کا نان ونفقہ ،رہائش ،لباس اور دیگر ضروریات مہیا کرنا واجب ہے، اسی طرح والدین کی اطاعت ،خدمت اور ضرورت کے وقت ان کی مالی ،مدد کرنا بھی شرعاً لازم ہے خصوصاً جب والدین محتاج ہوں اور ان کا کوئی اور زریعہ معاش نہ ہو ،کیونکہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم قرآن وحدیث میں بار بار آیا ہے ،لہذا مرد کو چاہیے کہ وہ دونوں کے حقوق حسب استطاعت ادا کرے ،لیکن اگر مال محدود ہو اور بیوی کا نفقہ ادا نہ کرنے سے اس کا حق ضائع ہونے کا اندیشہ ہو تو پہلے بیوی کا واجب نفقہ ادا کیا جائے ،کیونکہ وہ شوہر کے ذمہ حق لازم ہے البتہ محتاج وضرورت مند والدین کو بے آسراء چھوڑنا اور بالکلیہ ان کی مالی معاونت ترک کرنا بھی جائز نہیں ہے ،لہذا مرد پر عدل، حکمت اور استطاعت کے مطابق دونوں کے حقوق ادا کرنا لازم ہے ۔

مأخَذُ الفَتوی

ماخذ الفتوی
‌کما فی الھدایہ : وعلى ‌الرجل ‌أن ‌ينفق ‌على ‌أبويه وأجداده وجدته إذا كانوا فقراء وإن خالفوه في دينه" أما الأبوان فلقوله تعالى: {وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفاً} [لقمان: من الآية 15] ج،2، ص :293 )
و فی التبیین : قَالَ رحمه الله (تَجِبُ النَّفَقَةُ لِلزَّوْجَةِ عَلَى زَوْجِهَا، وَالْكِسْوَةُ بِقَدْرِ حَالِهِمَا) وَلَوْ مَانِعَةً نَفْسَهَا لِلْمَهْرِ ثَبَتَ ذَلِكَ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَالْإِجْمَاعِ وَضَرْبٍ مِنْ الْمَعْقُولِ أَمَّا الْكِتَابُ فَقَوْلُهُ تَعَالَى {لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ} [الطلاق: 7] وقَوْله تَعَالَى {وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ} [البقرة: 233]، ج: 3،ص:50 ۔)
و فی البحر : وفي كافي الحاكم ‌ويجبر ‌الرجل ‌الموسر على نفقة أبيه وأمه إذا كانا محتاجين،ج: 4،ص: 223۔)
و فی المبسوط : قَالَ : رضي الله عنه ‌وَيُجْبَرُ ‌الرَّجُلُ ‌الْمُوسِرُ عَلَى نَفَقَةِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ إذَا كَانَا مُحْتَاجَيْنِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ} [الإسراء: 23] نَهَى عَنْ التَّأْفِيفِ لِمَعْنَى الْأَذَى، وَمَعْنَى الْأَذَى فِي مَنْعِ النَّفَقَةِ عِنْدَ حَاجَتِهِمَا أَكْثَرُ، (ج5:ص: 222۔)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
سید قدرت اللہ یار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 89957کی تصدیق کریں
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات