جناب مہتم صاحب، دارالافتاء
*درخواست برائے حصول فتویٰ۔*
حضرتِ گرامی السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ،
اُمید ہے مزاج شریف بخیر ہونگے۔ میرے والد صاحب گورئمنٹ پوسٹ گریڈ ۲۰ سے حال ہی میں ریٹائرڈ ہوئے ہیں اور ۲۰ سالہ سروس کے دوران ایک کروڑ کے لگ بھگ ان کو GP فنڈ (جو کہ ہر ملازم کی ماہانہ کٹوتی+سود کو جمع در جمع رکھنے کے بعد گورنمٹ ملازم کو ریٹائرمنٹ پر یکمشت ادا کرتی ہے) ملا اس کے علاوہ ماہانہ ایک لاکھ روپے پینشن بھی الگ سے مل رہی ہے۔ اب جب کہ والد صاحب کو پینشن کے پیسے ملے 6 ماہ ہوئے ہیں، والد صاحب نے اپنی تمام جملہ آمدنی نیشنل سیونگ کے پینشنر اکاؤنٹ میں جمع کروا دی ہے 85 لاکھ فکس ڈپازٹ+ 20 لاکھ کے سیونگ سرٹیفکیٹ حاصل کر رکھے ہیں۔ اب ان کا کل سرمایہ 1 کروڑ 5 لاکھ روپے نیشنل سیونگ میں جمع ہیں جس پر کم و بیش 1 لاکھ روپے ماہانہ سود کی رقم حاصل ہو رہی ہے۔ اب انہوں نے پانچ ماہ بعد پانچ لاکھ روپے سود نکلوایا ہے جب کہ اصل رقم اب بھی نیشنل سیونگ کے پاس محفوظ ہے اب وہ ان پیسوں سے پہلے سے موجود ذاتی گھر میں ضرورت کا نیا سامان از سر نو ڈالنا چاہتے ہیں۔ اب یہاں یہ سوال ہے کہ
1). کیا تمام اہل خانہ کا اس ضرورت کے سامان کا استعمال جائز ہے؟ 2). کیا ان پیسوں سے خریدا گیا سودا سلف / پہناوہ کا استعمال جائز ہے ؟ 3). کیا سودی لین دین کرنے والے والد کے روز مرہ کے معاملات میں اطاعت لازم ہے ۔ 3). والد صاحب عمردراز اور جسمانی صحت کے تقاضے کے باعث کاروبار کرنے کے قابل نہیں ہیں اور کاروبار کا کوئی تجربہ نہیں رکھتے، اس ضمن میں مشورہ درکار ہے کہ وہ اپنے جمع شدہ پیسوں کو کس مصرف میں لیکر آئیں جب کہ ان کا گھریلو خرچہ تقریباً 1 لاکھ روپے ماہانہ ہے۔ براہ کرم قرآن و سنہ کی روشنی میں وضاحت اور ر ہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً کثیرا۔
سوال میں ذکر کردہ تفصیل کے مطابق نیشنل سیونگ اسکیم میں جمع کردہ رقم پر حاصل ہونے والی آمدنی شرعا سود کے زمرے میں آنے کی وجہ سے ناجائز اور حرام ہے، لہذا سائل کے والد کا اس سودی رقم کو اپنے استعمال میں لانا اور گھر کی ضروریات (سودا سلف لباس اور دیگر استعمال والی اشیاء ) میں استعمال کرنا شرعا جائز نہیں ،بلکہ سائل کے والد پر لازم ہے کہ جلد از جلد اس سودی معاملے کو ختم کر کے اس پر ملنے والی سودی رقم کو ثواب کی نیت کے بغیر فقراء مسکین پر صدقہ کر دے ،اس خالص سودی معاملے کے ارتکاب پر توبہ استغفار بھی کرے، جبکہ روز مرہ کے جائز اور مباح امور میں سائل پر اپنے والد کی اطاعت لازم اور واجب ہے، تاہم اگر والد سائل کو سودلینے یا سود استعمال کرنے یا اس میں تعاون کا حکم دے تو اس امر میں اس کی اطاعت کا قطعا جائز نہ ہوگی۔
کما فی القرآن الکریم : " وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبا "[البقرة:275]
وفی صحیح مسلم : لعن رسول اﷲ ﷺ آکل الرباء و موکلہٗ و کاتبہٗ و شاہدیہ و قال ہم سواء۔ اھـ (كتاب المساقاة باب لعن آكل الربا ومؤكله ج:2 ،ص:27 مط :قدیمی)
وفی معارف السنن: قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقھائنا "کالھدایۃ" وغیرھا ان من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد الی المالک فسبیلہ التصدق عل الفقراء الخ ( ابواب الطھارۃ ،ج:1، ص:34 ط: سعید)۔
وفی سنن الترمذی : باب ما جاء لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " السمع والطاعة على المرء المسلم فيما احب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإن امر بمعصية، فلا سمع عليه ولا طاعة " [ كتاب الجهاد عن رسول الله صلى الله عليه وسلم حدیث: 1707]
سونا قرض دے کر بعد میں کچھ کی ادائیگی کے لئے سونے اور بقیہ کی ادائیگی کے لئے نقد رقم کی شرط لگانا
یونیکوڈ سود 1