السلام علیکم :ہم چار بہنیں ہیں ، ہماری والدہ کے انتقال کو چار سال ہوچکے ہیں ،جس دوران ہمارے والد نے مرحومہ ماں کے لئے کافی غلط باتیں کی ، جس پہ انہیں کوئی شرمندگی نہیں ، اور جب جب ہم اپنی ماں کا ذکر کرتے ہیں ،تو وہ بہت ہی بری طرح چڑتے ہے جو کہ ہمیں کافی برا لگتاہے ،انہوں نے دوسری شادی بھی کر لی ہے ، لیکن اب ان کا رویہ اپنی اولاد کے ساتھ کافی خراب ہے، ہر وقت ہم سے یہ تقاضاکرتے ہیں ، کہ تم میری بیوی کی عزت نہیں کرتے ، جبکہ ہماری طرف سے ایسا کچھ نہیں ، ہم سے بات تک کرنا پسند نہیں کرتے ، اور انہوں نے ایک گھر بنایا ہے جس پہ ہر وقت اولاد کو یہ جتلاتے ہیں کہ یہ میرا گھر ہے جو یہاں آئے گا میری مرضی سے اور جس سے ملو گے تم لوگ، میری مرضی سے ، کافی بار ان سے بدلے ہوئے رویے کے بارے میں بات کرنے کی کوشش کی، لیکن کچھ سننے کو تیار نہیں ہے، ہر وقت کا یہی رونا ہےکہ پیسے نہیں ہیں ، خرچہ نہیں چلارہے ہیں گھر کا ، جب کہ وہ ہم پہ ایک روپیہ خرچ نہیں کرتے ، مہربانی کر بتائیں کہ ہم کیا کریں کہ ان کے ساتھ ہمارے معاملات بہتر ہوجائیں ۔
سائلہ کا بیان اگر واقعۃً درست اور مبنی بر حقیقت ہو تو سائلہ کے والد کا دوسری شادی کے بعد اپنے بچوں سے بے رخی اختیار کرنا، انہیں نظرانداز کرکے ان سے قطع تعلقی اختیار کرنا اور بچوں کی والدہ ( یعنی اپنی مرحومہ بیوی )کے متعلق بری اور ناشائستہ باتیں کرنا قطعاً درست نہیں ، انہیں اپنے مذکور طرزِ عمل پر توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس سے اجتناب کرتے ہوئے اپنی غیر شادی شدہ بیٹیوں کے نان نفقہ کا انتظام کرنا لازم ہے، جبکہ سائلہ اور اس کی دیگر بہنوں کو چاہیئے کہ وہ اپنی طرف سے حتی المقدوروالد صاحب کے حقوق اور ان کے ادب و احترام کا بھرپور خیال رکھیں ، انشاء اللہ امید ہے کہ یہ ان کی خوش بختی اور سعادت مندی کا ذریعہ ہوگا ۔
كما قال الله تعالى : وقضى ربك ألا تعبدوا إلا إياه و بالوالدين إحسانا إما يبلغن عندك الكبر أحدهما أو كلاهما فلا تقل لها أف و لا تنهرها و قل لهما قولا كريما ( سورة بنى إسرائيل، الآية : ٢٣)
وفي صحيح البخاري : عن عبد اللہ بن عمرو رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الكبائر الإشراك بالله وعقوق الوالدين وقتل النفس واليمين الغموس (باب اليمين الغموس ، ج 6 ، ص 2456 ، رقم : 6297، ط : دار ابن كثير)
وفي فتح الباري: والعقوق بضم العين المهملة مشتق من العق وهوالقطع والمراد به صدور ما يتأذى به الوالد من ولده من قول أوفعل إلا في شرك أو معصية ما لم يتعنت الوالد وضبطه ابن عطيه بوجوب طاعتهما في المباحات فعلاوتركا واستحبابها في المندوبات وفروض الكفاية كذلك ومنه تقديمهما عند تعارض الأمرين.وهو كمن دعته أمه ليمرضها مثلا بحيث يفوت عليه فعل واجب إن استمر عندها ويفوت ما قصدته من تأنيسه لها وغير ذلك لو تركهاوفعله وكان مما يمكن تداركه مع فوات الفضيلة كالصلاة أول الوقت أو في الجماعة الخ ( باب بالتنوين قوله عقوق الوالدین ، ج ۱۰، ص 406 ، ط : المكتبة السلفية ، مصر )- والله أعلم
وفي المستدرك على الصحيحين : عن ابن عباس رضي الله عنهما، أن رجلا ذكر أبا العباس فنال منه فلطمه العباس فاجتمعوا فقالوا: والله لنلطمن العباس كما لطمه، فبلغ ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم فخطب، فقال: «من أكرم الناس على الله؟» قالوا: أنت يا رسول الله، قال : « فإن العباس مني، وأنا منه لا تسبوا أمواتنا فتؤذوا به الأحياء» ( ذكر إسلام العباس رضي الله عنه، واختلاف الروايات في وقت إسلامه ، ج 3، ص 371 ، رقم : 5421 ، ط : دار الكتب العلمية، بيروت)-
وفي مسند أحمد : عن عبد الله، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : سباب المسلم أخاه فسوق، وقتاله كفر ( مسند عبد الله بن مسعود رضي الله تعالى عنه، ج 7 ، ص 296 ، رقم : 4262 ، ط : مؤسسة الرسالة)-