السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب!
میں کارٹنگ ریس سوٹس تیار کر کے ایکسپورٹ کرتا ہوں اور اب فارمولا ون (F1) ریس سوٹس کے ریپلکا ایکسپورٹ کرنا چاہتا ہوں۔
فارمولا ون کے اصل سوٹس پر مختلف اسپانسر کمپنیوں کے نام اور لوگو ہوتے ہیں، جن میں کچھ حلال کمپنیاں اور کچھ غیر شرعی کمپنیاں بھی شامل ہوتی ہیں، جیسے شراب بنانے والی کمپنیاں اور سودی بینک۔
فارمولا ون کے فینز عام طور پر بالکل اسی ڈیزائن کا سوٹ چاہتے ہیں اور ان کی نیت تشہیر کی نہیں ہوتی۔ اسی طرح میری بھی نیت تشہیر کی نہیں، بلکہ میں صرف آرڈر کے مطابق سوٹ تیار کرتا ہوں۔
سوال:
کیا ایسی صورت میں ان فینز کو ان اسپانسر لوگوز کے ساتھ F1 ریس سوٹس کے ریپلکا تیار کرنا اور ایکسپورٹ کرنا جائز ہے۔
اس کے علاوہ اگر کوئی شخص اپنے لیے ریس سوٹ بنواتا ہے اور اس پر تشہیر کے لیے اپنے اسپانسر (سودی بینک یا شراب بنانے والی کمپنی) کا نام یا لوگو لگواتا ہے، تو اس صورت کا کیا حکم ہے؟
صورت مسؤلہ میں اصل سوٹس کے ریپلکا اور نقل تیار کرنا اگر قانونی لحاظ سے منع نہ ہو، تو شرعا بھی ایسے سوٹس تیار کرنے میں کوئی حرج نہیں ، لیکن ان سوٹس پر جو مختلف کمپنیوں کے لوگولگائے جاتے ہیں، ان سے اگرچہ تشہیر مقصود نہ ہو، مگر اس لوگو لگے کپڑے پہننے سے بھی ان کمپنیوں کے تشہیر کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے، لہذا سودی اور شراب بنانے والی کمپنیوں کی تشہیر کرنا تعاون علی المعصیت کے زمرے میں آنے کی وجہ سے درست نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی القرآن الکریم : ولا تعاونو علی الاثم والعدوان ( سورۃ مائدۃ ، آیت نمبر : 2 )
وفی شرح سیر الکبیر: ألا ترى أن المسلمين يتبايعون بدراهم الأعاجم فيها التماثيل بالتيجان، ولا يمتنع أحد عن المعاملة بذلك. وإنما يكره هذا فيما يلبس أو يعبد من دون الله من الصليب ونحوها.وحكم هذه الأشياء كحكم ما لو أصابوا برابط وغيرها من المعازف. فهناك ينبغي له أن يكسرها ثم يبيعها أو يقسمها حطبا. قال: إلا أن يبيعها قبل أن يكسرها ممن هو ثقة من المسلمين يعلم أنه يرغب فيها للحطب لا للاستعمال على وجه لا يحل، فحينئذ لا بأس بذلك.لأنه مال منتفع به. فيجوز بيعه للانتفاع به بطريق مباح شرعا اھ ( باب ما یحمل علیہ الفیئ، ص: 1051، ط: الشرکۃ السرقیہ)
و فی فقہ البیوع: اما اذا کان المبیع شیئا اخر من المباحات، وھو مشتمل علی صور، فتدخل فی البیع تبعا، فیجوز بیعھا، وھذا مثل الجرائد والصحف والکتب التی یقصد منھا مضمونھا المباح، ولکنھا ربما تشتمل علی صور ممنوعۃ وکذلک ما عمت بہ البلوی من ان العلب التی تعبا بھا الاشیاء المباحۃ، یشتمل اکثرھا علی صور، فلا یمنع من بیعھا اذا کان المقصود الاشیاء المباحۃ دون الصور اھ ( باب الصور الغیر المجسدۃ، ج: 1، ص: 321، ط: معارف القرآن)
و فی احکام القرآن للتھانوی : ثم السبب القریب ایضا علی قسمین : سبب محرک و باعث علی المعصیۃ بحیث لولاہ لما اقدم الفاعل علی ھذہ المعصیۃ ، کسب آلھۃ الکفار فانہ سبب محرک و باعث لسب الالہ الحق جل شانہ ۔ و سبب لیس کذلک و لکنہ یعین لمرید المعصیۃ و یوصلہ الی ما یھواہ کاحضار الخمر لمن یرید شربہ و اعطاء السیف بید من یرید قتلا بغیر حق ۔ فالقسم الاول حرام بنص القرآن ، و الثانی ان کان بحیث یعمل بہ المعصیۃ من دون احداث صنعۃ منہ یلتحق بہ یکرہ تحریما وان کان یحتاج الی عمل و صنعۃ کرھ تنزیہا
وفی جواھر الفقہ: إن الإعانۃ علی المعصیۃ حرام قطعًا بنص القرآن، ولکن الإعانۃ حقیقۃ ہي ما قامت المعصیۃ بعین فعل المعین اھ( فصل فی تفصیل الکلام فی مسئلۃ الاعانۃ علی الحرام، ج: 4، ص: 447، ط: معارف القرآن )
وفی فقہ البیوع: ان الاعانۃ علی المعصیۃ حرام بنص القرآن اعنی قولہ تعالی "ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان" و "قولہ تعالی فلن اکون ظھیرا للمجرمین" ولکن الاعانۃ ھی ما قامت المعصیۃ بعیعن فعل المعین ولا یتحقق الا بنیۃ الاعانۃ او التصریح بھا اھـ (فصل: ان کان احد المتعاقدین یقصد بالعقد ارتکاب المعصیۃ، ج: 1، ص: 192، ط: معارف القرآن)