السلام علیکم، حافظ صاحب !میرے ایک دوست ہیں جو اپنی ڈگری کے معاملے کی وجہ سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کی عمر تقریباً 56 سال ہے۔ وہ پنجاب یونیورسٹی سے بی۔ایس سی کی ڈگری رکھتے ہیں اور اس کے علاوہ مختلف نجی کالجوں سے کمپیوٹر کے ڈپلومے بھی حاصل کر چکے ہیں۔ وہ ایک نہایت محنتی اور ایماندار انسان ہیں۔ایک نیم سرکاری ادارے میں بہتر ملازمت حاصل کرنے کے لیے انہوں نے اپنے ایک دوست کے نجی کالج سے ایم سی ایس (MCS) کی ڈگری جاری کروا لی، حالانکہ انہوں نے وہاں باقاعدہ طور پر کلاسیں اٹینڈ نہیں کیں۔ یہ ایم سی ایس ڈگری ایچ ای سی سے منظور شدہ نہیں ہے اور محض اضافی تعلیمی ریکارڈ کے طور پر ہے، عملی طور پر اس کا کوئی خاص فائدہ بھی نہیں۔لیکن اب وہ اپنے اس عمل پر بہت زیادہ افسردہ اور پریشان ہیں۔ تو ایسے میں انہیں کیا کرنا چاہئیے؟
واضح ہو کہ جعلی ڈگری حاصل کرنا اور اسے اپنے اضافی تعلیمی ریکارڈ کے طور پر ظاہر کرنا شرعی طور پر دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے دوست پر لازم ہے کہ وہ اپنی ایم۔سی۔ایس کی مذکور ڈگری کو اپنی تعلیمی صلاحیت و قابلیت کی دلیل کے طور پر ظاہر کرنے سے اجتناب برتے ،اور اپنے اس عمل پر بصدق دل توبہ و استغفار بھی کرے۔
کما قال اللہ تعالی: وَ تَعَاوَنُوْا عَلَى الْبِرِّ وَ التَّقْوٰى وَ لَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ الآیۃ (آیت: 2، سورۃ المائدۃ)
وفی مسند أحمد: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ، أن رسول اللہ ﷺ قال: من حمل علینا السلاح فلیس منا، ومن غشنا فلیس منا (15/232)
وفی صحيح مسلم: عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «عليك السمع والطاعة في عسرك ويسرك، ومنشطك ومكرهك، وأثرة عليك»(ج:14،ص: 514،رقم الحدیث: 8953، مط: مؤسسة الرسالة )
وفی رد المحتار: تحت (قولہ لأن الغش حرام) ذکر فی البحر (إلی قولہ) إذا باع سلعۃ معینۃ، علیہ البیان وإن لم یبین قال بعض مشایخنا یفسق وترد شھادتہ الخ (کتاب البیوع، ج 5 ،ص:47، مطبع: سعید)