اگر عمرہ کے دوران حیض آ جائے تو کیا بالوں میں کنگھی کر سکتے ہیں؟ اور اس کا کیا حکم ہے؟
واضح ہوکہ حیض آنے سے احرام باطل نہیں ہوتا ہے ، بلکہ بدستور برقرار رہتا ہے ،جبکہ کنگھی کرنا حالتِ احرام میں بھی شرعاً درست ہے ، بشرطیکہ بال نہ ٹوٹیں، ورنہ کنگھی کرنے سے اگر بال گر جائیں تو صدقہ ادا کرنا ضروری ہوگا ، جس کی تفصیل یہ ہے کہ: تین بال تک ہر بال کے بدلے میں ایک مٹھی گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرے ، اور اگر تین بال سے زائد گریں ،تو ایک صدقہ فطر کے برابر گندم یا اس کی قیمت صدقہ کرنا ہوگی ، لہٰذا احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ: اس حالت میں کنگھی کرنے سے گزیر کیا جائے ۔
كما في الدر المختار: و لا يتقي ختانا وفصدا وحجامة وقلع ضرسه وجبر كسر وحك راسه وبدنه لكن برفق ان خاف سقوط شعره او قمله فان في الواحدة يتصدق بشيء وفي الثلاث كف من طعام غرر الاحكام اھ
وفي الشامية: تحت (قوله يتصدق بشيء) اي كتمرة وكسرة خبز اھ( كتاب الحج مطلب فيما يحرم بالاحرام ومالا يحرم ج 2 ص 491 ط سعيد)