میں نے خلع لی ہےاورمیں سات مہینوں سے اپنے شوہر سے الگ ہوں ،میری کل خلع ہوئی ہےمیری عدت بنتی ہے؟اور اگر بنتی ہے تو کتنا عرصہ؟ عدت میں کیا حکم ہے؟اورکیا میں مرد دوست اور کلاس کے ساتھیوں سے فون پربات کرسکتی یانہیں؟
سائلہ نے یہ وضاحت نہیں کی کہ اسے جو خلع کی ڈگری جاری کی گئی ہے وہ یکطرفہ طورپر جاری کی گئی ہے یااسکے شوہرنے عدالت حاضرہوکراورعقدخلع کو اپنی مرضی سےقبول کرکےخلع کے پیپرسائن کیےہیں؟تاکہ اس کے مطابق جواب دیاجاتا۔تاہم آج کل عموماً عدالت کی طرف سے بیوی کی درخواست پر یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی جاتی ہے،اگرسائلہ کو بھی یکطرفہ ڈگری جاری کردی گئی ہوتو واضح رہے کہ خلع بھی دیگر عقودِ مالیہ کی طرح ایک عقد ہے ،جس میں فریقین کی رضامندی لازم ہے ، جو عموماًعدالتی خلع میں مفقود ہوتی ہے ، لہذا سائلہ نے اگر شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت سے خلع لیا ہو ،اور عدالت نے یکطرفہ خلع کی ڈگری جاری کردی ہو تو اس سے شرعاً سائلہ کا نکاح اپنے شوہر سے ختم نہیں ہوا ، بلکہ وہ بدستور اپنے شوہر کے نکاح میں ہے ، چنانچہ اس صورت میں سائلہ پر عدت لازم نہیں ہے ، البتہ اگرمیاں بیوی کی باہمی رضامندی سےعقدخلع ہواہوتواس سے سائلہ پرایک طلاق بائن واقع ہوکرنکاح ختم ہوچکاہے،اوراس صورت میں اگرچہ سائلہ اپنےشوہرسے عرصہ سات ماہ سے علیحدہ رہ رہی ہےتب بھی سائلہ کے ذمہ عدت گزارنااوردوران عدت زیب وزینت اختیارکرنےاوربلاضرورت گھرسےنکلنےسےاجتناب کرنالازم ہوگا۔
جبکہ ایک عاقلہ بالغہ عورت کیلئے(چاہے وہ عدت میں ہویا اس کے علاوہ کسی بھی حالت میں ہو)کسی اجنبی مرد سے بلاضرورت شرعیہ بات چیت کرنا،گپ شپ اور بے تکلفی اختیارکرناقطعاًجائزنہیں،اس سے ہر حال میں اجتناب لازم ہے۔
كما في الدرالمختار: (وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوةلرتقاء. وشرطهاالفرقة (ج:3، ص:504، مط: سعید )
وفی بدائع الصنائع : وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول الخ(ج:3،ص:145،مط:سعید)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0