"السلام علیکم "میں شہر کراچی سے تعلق رکھتی ہوں، اور میرے دو بچے ہیں ،بڑا بیٹا جو ہے وہ گیارہ سال کا ہے، اور چھوٹا بیٹا ساڑھے آٹھ سال کا ہے ،جو چھوٹا والا بچہ ہے ،اس کے ساتھ تھوڑا سا مسئلہ ہے ،اور دماغی مسئلہ ہے ،وہ نہ اپنی بات سمجھا پاتا ہے، نہ کہہ پاتا ہے، اور نہ سمجھ پاتا ہے، اس کو آٹزم نامی بیماری ہے ،اس کا علاج چل رہا ہے، میرا مسئلہ یہ ہے کہ میرے شوہر جو ہیں وہ ماشاء اللہ تبلیغ کے کاموں میں بہت آگے آگے رہتے ہیں، اور سہ روزے لگانا ،گشتوں پہ جانا، اور سب کام بخوبی کے ساتھ کرتے ہیں ،میں پھر بہت خوش ہوتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام پہ لگایا ہوا ہے ،لیکن مسئلہ یہ ہے کہ وہ دین اور دنیا کو بیلنس نہیں کر پا رہے ،وہ بچوں کو وقت نہیں دیتے ،وہ چھوٹے والے بچے کے ساتھ نہ کھیلتے ہیں، نہ اس سے بات کرتے ہیں ،نہ اس کی کسی چیز میں میرا ساتھ دیتے ہیں، اس کا تمام علاج تھراپیز وغیرہ سب میں خود جو ہے وہ کروا رہی ہوتی ہوں، اور جو ہے سب چیزوں کی ذمہ داری میں اکیلے اٹھا رہی ہوں، تو مجھے یہ بات بتائی جائے قرآن اور حدیث کی روشنی سے ،میرا مفتی حضرات سے سوال یہ ہے کہ کیا ایسے بچوں کی کفالت کرنا صرف ماں کی ذمہ داری ہے، کیا ساری ذمہ داریاں صرف ماں کی ہیں، اور میرے شوہر جو یہ کام کر رہے ہیں تبلیغ کا، کیا اس میں ان کو زیادہ ثواب مل رہے ،زیادہ اجر ہے، اور اس بچے کی جو ہے وہ دیکھ بھال کا ان کو کوئی اجر نہیں ملے گا، تو میں چاہتی ہوں کہ آپ لوگ اس چیز کی مجھے رہنمائی فرمائیں، اور اس چیز کو مجھے واضح کیجئے ،تاکہ یہ جواب جو بھی آپ کی طرف سے آئے، وہ میں اپنے شوہر کے سامنے رکھ سکوں، پورے دلائل کے ساتھ اور انہیں یہ بات بتا سکوں کہ اللہ تعالیٰ نے اگر ہمیں ایسا بچہ عطا کیا ہے تو لازماً اللہ تعالیٰ کی اس میں کوئی بہت بڑی حکمت ہے، اور میں چاہتی ہوں کیونکہ وہ میرا بچہ اپنے باپ سے بہت محبت کرتا ہے، ان کے بغیر نہیں رہ پاتا، وہ کبھی بولتے ہیں کہ مجھے چلے پہ جانا ہے ،کبھی چار مہینے پہ جانا ہے، تو مجھے بتایا جائے کہ کیا اس کی ساری ذمہ داری اٹھانا میری اکیلے کی ذمہ داری ہے، کیونکہ ظاہر ہے ساس و سسر کے ساتھ ہم رہتے ہیں ،وہ اب بوڑھے ہو رہے ہیں ،میں اکیلے نہیں سنبھال پاتی، بچہ بڑا ہو رہا ہے ،اس میں طاقت آ گئی ہے، وہ پھر مارتا ہے مجھے، تو مجھے مفتی حضرات براہِ مہربانی قرآن اور حدیث کی روشنی سے اس چیز کو جو ہے وہ سب واضح کریں ،اس بات کو ،میں آپ لوگوں کی بہت شکر گزار ہوں گی۔"جزاک اللہ"
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے شوہر کا ہمہ تن تبلیغی اسفار میں مشغول رہنا اور بیوی ،بچوں کی دیکھ بھال اور دیگر گھریلو امور میں بالکل تعاون نہ کرنا شرعاً مناسب نہیں ، سائلہ کے شوہر کو چاہیئے کہ دینی اور دنیوی دونوں امور کو اعتدال میں لیکر چلنے کی کوشش کرے ، جس کی بہتر صورت یہ ہے کہ سائلہ کا شوہر دور دراز کے تبلیغی اسفار کے بجائے اگر تبلیغی جماعت کے مقامی اعمال میں جڑا رہے ،اور ساتھ ساتھ بچوں کی تربیت اور ان کی کفالت کی ذمہ داریاں اس طریقے سے انجام دینے کی بھی فکر کرے تو ان شاءاللہ جماعت میں شرکت کا مقصد اور ثواب بھی حاصل ہوگا ، اوروہ اس طریقے سے بیوی ، بچوں کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کی وجہ سے گنہگار بھی نہ ہوگا ۔
کمافی الدر المختار : (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته(باب النفقۃ،ج:3،ص:612، ط:سعید)
وفیہ ایضاً : (وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر(باب النفقۃ، ج:3،ص:572،ط:سعید)
والدین کا نافرمان بیٹے کیساتھ رویہ کیسے ہونا چاہئیے اور کیا وہ اس سے قطعِ تعلق کرسکتے ہیں ؟
یونیکوڈ بچوں کے مسائل 0