گناہ و ناجائز

حرام جانور کو جلاکر دوائی بنانے اور اس کے استعمال کا حکم

فتوی نمبر :
91021
| تاریخ :
2026-01-16
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

حرام جانور کو جلاکر دوائی بنانے اور اس کے استعمال کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:کچھوے کے خول یا کسی بھی حرام جانور کی ہڈی کو نمک کے بیچ رکھ کر سات یا آٹھ گھنٹے تک آگ دی جائے، جس کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر کشتہ یا راکھ بن جائے،توکیا اس کشتہ یا راکھ کو کھانا شریعت کے مطابق جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ کچھوا اپنےخول سمیت ایک حرام جانور ہے جس کا کھانا جائز نہیں ہے البتہ کسی حرام یا نجس چیز کا بذات خود یا کسی کیمیائی عمل سے اس طرح تبدیل ہو جانا کہ جس سے سابقہ حقیقت ہی باقی نہ رہے ،تبدیل ماہیت کہلاتا ہے جس سے حلت وحرمت کاحکم بھی بدل جاتاہے،لہذا اگر اس میں حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جائے تو وہ حلال ہو جاتا ہے،صورت مسئولہ میں بھی اگر مذکور عمل سے واقعتاً کچھوے کے خول یا حرام جانور کی ہڈی راکھ میں تبدیل ہوجاتی ہے تو بوجہ قلب ماہیت کے اس کا کھانا جائز ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

کمافی الدرالمختار: (لا) يكون نجسا (رماد قذر) وإلا لزم نجاسة الخبز في سائر الأمصار (و) لا (ملح كان حمارا) أو خنزيرا ولا قذر وقع في بئر فصار الخ(ج:1،ص:326،مط:سعید)
وفی ردالمحتار: قلت: لكن قد يقال: إن الدبس ليس فيه انقلاب حقيقة؛ لأنه عصير جمد بالطبخ؛ وكذا السمسم إذا درس واختلط دهنه بأجزائه ففيه تغير وصف فقط؛ كلبن صار جبنا، وبر صار طحينا، وطحين صار خبزا؛ بخلاف نحو خمر صار خلا وحمار وقع في مملحة فصار ملحا، وكذا دردي خمر صار طرطيرا وعذرة صارت رمادا أو حمأة، فإن ذلك كله انقلاب حقيقة إلى حقيقة أخرى لا مجرد انقلاب وصف كما سيأتي - والله أعلم -.(ج:1،ص:316،مط:سعید)
وفی تبیین الحقائق:والأعيان النجسة تطهر بالاستحالة عندنا وذلك مثل الميتة إذا وقعت في المملحة فاستحلت حتى صارت ملحا والعذرة إذا صارت ترابا أو أحرقت بالنار وصارت رمادا فهي نظير الخمر إذا تخللت أو جلد الميتة إذا دبغت فإنه يحكم بطهارتها للاستحالة وذكر في الفتاوى أن رأس الشاة لو أحرق حتى زال الدم يحكم بطهارته، وكذا البلة النجسة في التنور تزول بالإحراق.(ج:1،ص:76،بَابُ الْأَنْجَاسِ،مط: المطبعة الكبرى الأميرية)
وفی بدائع الصنائع: وأما بيان ما يقع به التطهير فالكلام في هذا الفصل يقع في ثلاثة مواضع: أحدها - في بيان ما يقع به التطهير (الیٰ قولہ)(منها) : الكلب إذا وقع في الملاحة، والجمد، والعذرة إذا أحرقت بالنار وصارت رمادا، وطين البالوعة إذا جف وذهب أثره والنجاسة إذا دفنت في الأرض وذهب أثرها بمرور الزمان الخ(ج:1، فصل بيان ما يقع به التطهير ص:85،مط:سعید)
وفی بحوث فی قضایافقہیۃ معاصرۃ: الخمائر والجلاتين المتخذة من الخنزير :إن كان العنصر المستخلص من الخنزير تستحيل ماهيته بعملية كيماوية، بحيث تنقلب حقيقته تماماً، زالت حرمته ونجاسته، وإن لم تنقلب حقيقته بقي على حرمته ونجاسته؛ لأن انقلاب الحقيقة مؤثر في زوال الطهارة والحرمة عند الحنفية .(ج:1، ص:341، ١٣ - الخمائر والجلاتين المتخذة من الخنزير،مط:دارالعلوم کراچی)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد اسلم امین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91021کی تصدیق کریں
0     92
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات