السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! میں مالی اور گھریلو طور پر کافی کمزور حیثیت رکھتا ہوں اور اپنے بیوی بچوں کو مستقبل میں مالی پریشانیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے ِ،اس لئے میں ''تکافل انشورنس ''کروانا چاہتا ہوں ، براہ کرم مجھے بتائیں کہ میرے لئے ایسا کرنے کی گنجائش ہوسکتی ہے ؟ شکریہ
واضح ہو کے انشورنس اور تکافل دونوں الگ الگ طریقہ کار ہیں انشورنس سود ،قمار اور غرر جیسے ناجائز امور پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز و حرام اور گناہ کبیرہ ہے جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے جبکہ تکافل انشورنس کی متبادل صورت ہے ، چنانچہ جو تکافل کمپنیاں مستند مفتیان کرام پر مشتمل شرعیہ بورڈ کی نگرانی میں وقف اور وکالہ وغیرہ کی بنیاد پر کام کر رہی ہیں تو ان تکافل کمپنیوں سے تکافل پالیسی لینا درست ہے۔
قال اللہ تعالیٰ : یایّھا الذین امنوا اتّقوا اللہ وذرُوا ما بقِیَ من الرّبٰوا ِان کنتم مؤمنین فاِن لم تفعلُوا فاذنوا بحربٍ منّ اللہ ورسولہ (سورۃ البقرہ آیۃ 278 )
وفی ردالمحتار : تحت (قولہ لانّہ یصیر قمارا ) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ وینقص اخری ، وسمی القمار قماراً لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ الی صاحبہ ویجوز أن یستفید مال صاحبہ وھو حرام بالنص (ج:6،ص:403 )
وفی بدائع الصنائع : نھی رسول اللہ ﷺ عن بیع فیہ غرر وبیان تمکن الغرر أن الغرر ھو الخطر و فی ھذا البیع خطر من وجوہ احدھما فی اصل المعقود علیہ الخ (ج:5،ص:163)
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0