معاشی اسکیمز

فاریکس میں کموڈیٹیز پر ٹریڈنگ کا حکم

فتوی نمبر :
91101
| تاریخ :
2026-01-18
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / معاشی اسکیمز

فاریکس میں کموڈیٹیز پر ٹریڈنگ کا حکم

فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

فاریکس کا کاروبار شرعاً جائز نہیں ، کیونکہ اس کا طریقہ کار ہمارے علم کے مطابق یہ ہےکہ کوئی شخص براہِ راست اس مارکیٹ میں خریداری کا اہل نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی کمپنی (یا بروکر)سے کچھ رقم مثلاً ایک ہزار ڈالر سے اپنا اکاؤنٹ کھلواکر اس کے ذریعے اس مارکیٹ میں داخل ہوتاہے، اور یہ کمپنیاں دیگر سہولیات کے علاوہ ایک بڑی رقم کی ضمانت بھی اسے فراہم کرتی ہیں، انٹرنیٹ پر مارکیٹ کے حوالے سے مختلف اشیاء کے ریٹ آرہے ہوتے ہیں، اور لمحہ بہ لمحہ کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں، یہ شخص کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے کوئی سودا کرتاہے، اور پھر ریٹ بڑھتے ہی اسے آگے فروخت کرکے نفع کماتاہے، اور اگر قیمت گر جاتی ہے تو یہ اس کا نقصان شمار ہوتاہے، کمپنی ایک ٹریڈ مکمل ہونے پر اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتی ہے اور اگر مقررہ وقت پر سودا مکمل نہ ہو،تو کمپنی اس کے بعد مزید چارجز بھی وصول کرتی ہے اور اس شخص کا کوئی چیز خریدنا اور فروخت کرنا سب کاغذی کاروائی ہوتی ہے، خریدی ہوئی اشیاء پر نہ قبضہ ہوتا اور نہ قبضہ کرنا مقصود ہوتاہے، بلکہ محض نفع ونقصان برابر کیا جاتاہے، چناچہ یہ کئی مفاسدِ شرعیہ پر مثلاً بیع قبل القبض، بیع الکالی بالکلالی پر مشتمل ہونے نیزیہ سٹہ کی ایک صورت ہونےکی وجہ سے حرام ہے، جبکہ کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم پر کمیشن لینایا تو قرض پر سود ہے، یا کفالت کی اجرت ہے، اور یہ دونوں چیزیں شرعاً ناجائز ہیں، لہٰذا اس کاروبار میں شریک ہونا اور نفع کمانا شرعا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال الله تعالیٰ: وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ الخ ( البقرة 275)
وقال الله تعالی ایضا: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ (المائدة: 90)
وفی صحیح مسلم: حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا: حدثنا هشيم ، أخبرنا أبو الزبير ، عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء الخ (کتاب البیوع، باب لعن آکل الربا وموکله، ح4092،ص 860، ط: مکتبة البشریٰ)
وفی فقه البیوع: وقد شاع فى عصرنا التّجارة فى العملات عن طريق "سوق العملات الخارجيّة" (Foreign Exchange Trade) والذى يخفّف فيُقال: "فوريكس" (Forex) وهذه سوق تتبادل فيها العُملات بمقدار كبير يبلغ قيمتها 38 تریلیون 3800000000000 یومیّا معظمها لعمليّات المجازفة والتخمين (Speculation) وإن هذه السوق لها طرُق مختلفة للتجارة، وإن معظمها تشتمل على محظورات شرعية نذكر بعضها فيما يلی: 1:الأصل فى العملات والنّقود أنّها وسيلةٌ لتقويم الأشياء، وليست مقصودةً بنفسها، وإنّ الشّريعة الإسلاميّة لا تستحسن أن تكون هيَ محلّ التّجارة بنفسها، إلا لحاجة حقيقيّة لتبادل بعض العملات ببعض. ولذلك فرضت على بيع النّقود شروطاً وقيوداً فصّلناها أعلاه فى مباحث الصّرف. ولكنّ هذه السّوق جعلت العملات محلّ التّجارة بنفسها بما أحدث فساداً كبيراً فى النّظام الماليّ المعاصر. وقد شرحتُ ذلك فى بحثى أسباب الأزمة الماليّة وعلاجها فى ضوء الشريعة الإسلاميّة وإنّماحدث ذلك بعدم التّقيّد بأحكام الشّريعة فى بيع العملات.
2: شرّحنا فيما قبل أنّ العملات الورقيّة عند كثير من العلماء المعاصرين والمجامع الفقهيّة فى حكم الذّهب والفضّة، فيشترط فی مبادلتها التقابض فی المجلس وأن هذا الشرط مفقود فی معظم عملیات هذه السوق، فإنّها تنقسم إلى بيع عاجل وآجل. وإنّ التّقابض مفقود فيهما، لأنّ ما يُسمّى "البيع العاجل" (Spot sale) لايقع فيه التّقابض إلاّ بعد يومين من يوم العقد. وأمّا على الموقف الثّالث الّذى شرّحناه ورجّحناه، فإنّه يجب فى تبادل العملات المختلفة الجنس أن يقع القبض على إحدى العُملتين فى مجلس العقد. وهذا الشّرط مفقود أيضاً فى هذه السّوق. فإنّما يقع البيع والشّراء عموماً عن طريق الكمبيوتر أو الإنترنيت. 3: وكثيراً مّا يبيع الإنسانُ ما لا يملكه، ولايقع التّسليم والتّسلّم فى كثير من عمليّات السّوق، وإنّما يُصفّى الباعةُ والمشترون عمليّاتهم بفروق الأسعار. 4: وقد تُعطى بورصةُ العُملات فرصةً للإنسان أن يُودِع فيها مبلغاً أقلّ، ویتّجر بمبلغٍ أكثر، وتُقدّم البورصة ضماناً للمبلغ الباقى بعمولة تُطالبها من المتعامل بالأكثر ويُسمّى"البيع بالهامش"(Sale on Margin) وهذا فى الحقيقة قرضٌ يُتقاضى عليه فوائد ربوية. 5: ما يشتريه الإنسان عن طريق هذه السّوق عُملاتٌ غير متعيّنة، لأنّ التّعيين فى العملات إنّما يتحقق بالقبض، وهو مفقود فى معظم العمليّات. ومن هذه الجهات، فإنّه لايجوز التّعامل شرعاً عن طريق سوق الفوريكس الخ (تجارة العملات عن طریق الفوریکس ج: 2، ص: 763، ط: معارف القرآن)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
قاضی محمد اللہ عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91101کی تصدیق کریں
0     87
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کرپٹو کرنسی میں سپاٹ ٹریڈنگ کا حکم - future or spot trading

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 14
  • ٹیلی نار کی سم لگاؤ آفر کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر چارجز وصول کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 4
  • کیش بیک کی رقم کس کی ملکیت شمار ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   معاشی اسکیمز 0
  • "ٹورن کرپٹو کرنسی" کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • این آر جی کمپنی میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اپنی سیونگ کو کس طرح محفوظ کیاجاسکتاہے؟

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اسٹاک مارکیٹ اور فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • نیٹ ورک مارکیٹنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • نیشنل بینک کے" اعتماد ماہانہ بچت اکاؤنٹ" کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • آنلائن ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • سافٹ ویئر انجینئیر کا بینک کیلئے ویب سائٹ بنانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • ڈراپ شپنگ - بغیر قبضہ کئے چیز کو فروخت کرنا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 3
  • تکافل پروگرامز میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "بائے ون گیٹ ون فری " (ایک چیز کی خریداری پر دوسری مفت) اسکیم کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "گوگل ایڈورڈ" کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "فارسیج " نام کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • انشورنس والوں کو ویب سائٹ بنا کر دینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • Ruling on Investment in Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • How is it to trade on Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • "الفاچیٹ جی پی ڈی" ویب سائٹ کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • فری لانسنگ میں کام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • آنلائن بی سی میں سروس چارج کے نام پر پیسے لینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
Related Topics متعلقه موضوعات