فاریکس ٹریڈنگ حلال ہے یا حرام؟
فاریکس کا کاروبار شرعاً جائز نہیں ، کیونکہ اس کا طریقہ کار ہمارے علم کے مطابق یہ ہےکہ کوئی شخص براہِ راست اس مارکیٹ میں خریداری کا اہل نہیں ہوتا، بلکہ وہ کسی کمپنی (یا بروکر)سے کچھ رقم مثلاً ایک ہزار ڈالر سے اپنا اکاؤنٹ کھلواکر اس کے ذریعے اس مارکیٹ میں داخل ہوتاہے، اور یہ کمپنیاں دیگر سہولیات کے علاوہ ایک بڑی رقم کی ضمانت بھی اسے فراہم کرتی ہیں، انٹرنیٹ پر مارکیٹ کے حوالے سے مختلف اشیاء کے ریٹ آرہے ہوتے ہیں، اور لمحہ بہ لمحہ کم زیادہ ہوتے رہتے ہیں، یہ شخص کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم سے کوئی سودا کرتاہے، اور پھر ریٹ بڑھتے ہی اسے آگے فروخت کرکے نفع کماتاہے، اور اگر قیمت گر جاتی ہے تو یہ اس کا نقصان شمار ہوتاہے، کمپنی ایک ٹریڈ مکمل ہونے پر اپنا طے شدہ کمیشن وصول کرتی ہے اور اگر مقررہ وقت پر سودا مکمل نہ ہو،تو کمپنی اس کے بعد مزید چارجز بھی وصول کرتی ہے اور اس شخص کا کوئی چیز خریدنا اور فروخت کرنا سب کاغذی کاروائی ہوتی ہے، خریدی ہوئی اشیاء پر نہ قبضہ ہوتا اور نہ قبضہ کرنا مقصود ہوتاہے، بلکہ محض نفع ونقصان برابر کیا جاتاہے، چناچہ یہ کئی مفاسدِ شرعیہ پر مثلاً بیع قبل القبض، بیع الکالی بالکلالی پر مشتمل ہونے نیزیہ سٹہ کی ایک صورت ہونےکی وجہ سے حرام ہے، جبکہ کمپنی کی طرف سے فراہم کردہ رقم پر کمیشن لینایا تو قرض پر سود ہے، یا کفالت کی اجرت ہے، اور یہ دونوں چیزیں شرعاً ناجائز ہیں، لہٰذا اس کاروبار میں شریک ہونا اور نفع کمانا شرعا جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما قال الله تعالیٰ: وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ الخ ( البقرة 275)
وقال الله تعالی ایضا: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡخَمۡرُ وَٱلۡمَيۡسِرُ وَٱلۡأَنصَابُ وَٱلۡأَزۡلَٰمُ رِجۡسٞ مِّنۡ عَمَلِ ٱلشَّيۡطَٰنِ فَٱجۡتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمۡ تُفۡلِحُونَ (المائدة: 90)
وفی صحیح مسلم: حدثنا محمد بن الصباح، وزهير بن حرب، وعثمان بن أبي شيبة ، قالوا: حدثنا هشيم ، أخبرنا أبو الزبير ، عن جابر قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا ومؤكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء الخ (کتاب البیوع، باب لعن آکل الربا وموکله، ح4092،ص 860، ط: مکتبة البشریٰ)
وفی فقه البیوع: وقد شاع فى عصرنا التّجارة فى العملات عن طريق "سوق العملات الخارجيّة" (Foreign Exchange Trade) والذى يخفّف فيُقال: "فوريكس" (Forex) وهذه سوق تتبادل فيها العُملات بمقدار كبير يبلغ قيمتها 38 تریلیون 3800000000000 یومیّا معظمها لعمليّات المجازفة والتخمين (Speculation) وإن هذه السوق لها طرُق مختلفة للتجارة، وإن معظمها تشتمل على محظورات شرعية نذكر بعضها فيما يلی: 1:الأصل فى العملات والنّقود أنّها وسيلةٌ لتقويم الأشياء، وليست مقصودةً بنفسها، وإنّ الشّريعة الإسلاميّة لا تستحسن أن تكون هيَ محلّ التّجارة بنفسها، إلا لحاجة حقيقيّة لتبادل بعض العملات ببعض. ولذلك فرضت على بيع النّقود شروطاً وقيوداً فصّلناها أعلاه فى مباحث الصّرف. ولكنّ هذه السّوق جعلت العملات محلّ التّجارة بنفسها بما أحدث فساداً كبيراً فى النّظام الماليّ المعاصر. وقد شرحتُ ذلك فى بحثى أسباب الأزمة الماليّة وعلاجها فى ضوء الشريعة الإسلاميّة وإنّماحدث ذلك بعدم التّقيّد بأحكام الشّريعة فى بيع العملات.
2: شرّحنا فيما قبل أنّ العملات الورقيّة عند كثير من العلماء المعاصرين والمجامع الفقهيّة فى حكم الذّهب والفضّة، فيشترط فی مبادلتها التقابض فی المجلس وأن هذا الشرط مفقود فی معظم عملیات هذه السوق، فإنّها تنقسم إلى بيع عاجل وآجل. وإنّ التّقابض مفقود فيهما، لأنّ ما يُسمّى "البيع العاجل" (Spot sale) لايقع فيه التّقابض إلاّ بعد يومين من يوم العقد. وأمّا على الموقف الثّالث الّذى شرّحناه ورجّحناه، فإنّه يجب فى تبادل العملات المختلفة الجنس أن يقع القبض على إحدى العُملتين فى مجلس العقد. وهذا الشّرط مفقود أيضاً فى هذه السّوق. فإنّما يقع البيع والشّراء عموماً عن طريق الكمبيوتر أو الإنترنيت. 3: وكثيراً مّا يبيع الإنسانُ ما لا يملكه، ولايقع التّسليم والتّسلّم فى كثير من عمليّات السّوق، وإنّما يُصفّى الباعةُ والمشترون عمليّاتهم بفروق الأسعار. 4: وقد تُعطى بورصةُ العُملات فرصةً للإنسان أن يُودِع فيها مبلغاً أقلّ، ویتّجر بمبلغٍ أكثر، وتُقدّم البورصة ضماناً للمبلغ الباقى بعمولة تُطالبها من المتعامل بالأكثر ويُسمّى"البيع بالهامش"(Sale on Margin) وهذا فى الحقيقة قرضٌ يُتقاضى عليه فوائد ربوية. 5: ما يشتريه الإنسان عن طريق هذه السّوق عُملاتٌ غير متعيّنة، لأنّ التّعيين فى العملات إنّما يتحقق بالقبض، وهو مفقود فى معظم العمليّات. ومن هذه الجهات، فإنّه لايجوز التّعامل شرعاً عن طريق سوق الفوريكس الخ (تجارة العملات عن طریق الفوریکس ج: 2، ص: 763، ط: معارف القرآن)