گناہ و ناجائز

بھائی کے وراثتی حصہ سے سابقہ قرضہ الگ کرنا

فتوی نمبر :
91736
| تاریخ :
2026-02-05
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

بھائی کے وراثتی حصہ سے سابقہ قرضہ الگ کرنا

مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ وراثت کے حوالے سے ہمارا مسئلہ کیا حکم رکھتا ہے۔ ہمارے والد کا انتقال ہوا اور انہوں نے کافی زیادہ وراثت چھوڑی۔ ایک گھر فروخت کرکے شریعت کے مطابق سب میں حصص تقسیم کر دیے گئے۔لیکن والد کا جو دیگر سامان تھا، جیسے گاڑی، قیمتی اشیاء اور تین منزلہ گھر میں موجود تمام قیمتی سامان، وہ سب ایک بھائی نے اپنے پاس رکھ لیا اور کسی کو کچھ نہیں دیا، حتیٰ کہ ہماری والدہ کو بھی نہیں دیا۔اب میرا سوال یہ ہے کہ والدہ کا جو حصہ بنتا ہے اور وہ بعد میں ہم بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگا، تو کیا اس میں سے ہم اس بھائی کا حصہ کم کر سکتے ہیں، اس کے بدلے میں جو اس نے پہلے والد کی وراثت سے ہمارا حق نہیں دیا؟کیا شریعت میں ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ سائل کے والدِ مرحوم نے بوقتِ انتقال اپنی ملکیت میں جو کچھ چھوڑا تھا ،وہ سارا کا سارا سائل کے والد ِمرحوم کا تر کہ تھا جس طرح وراثتی مکا ن میں تمام ورثاء حصہ دار تھے ،اسی طرح تر کے کی دیگر اشیاء میں بھی مرحوم کے تمام ورثاء حصہ دار تھے چنانچہ سائل کے بڑے بھائی کا ترکے کے فروخت شدہ مکان کے علاوہ بقیہ ترکے میں اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کو شرعی حصہ نہ دینا ظلم اور غصب پر مبنی عمل ہے جو کہ شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اور قرآن وحدیث میں اس کے متعلق سخت قسم کی وعیدیں وارد ہوئی ہیں، لہذا سائل کے بڑے بھائی پر لازم ہے کہ فروخت شدہ مکان کے علاوہ باقی اشیاء میں بھی اپنے بہن بھائیوں اور والدہ کو ان کا شرعی حصہ دیکر مؤاخذہ دنیوی و اخروی سے سبکدوشی حاصل کرے، بصورت دیگر ورثاء کو اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کا بھی حق حاصل ہو گا ،جبکہ سائل کی والدہ کا انتقال اگر بڑے بھائی کی زندگی میں ہو جائے تو ایسی صورت میں بڑا بھائی والدہ کے ترکے میں حصہ دار ہو گا ،والدِ مرحوم کے ترکے میں ورثاء کو حصہ نہ دینے کی وجہ سے وہ والدہ کے ترکے سے محروم نہ ہو گا، لہذا سائل اور اس کے دیگر بہن بھائیوں کے ذمہ والدہ کے تر کے میں اپنے بڑے بھائی کو حصہ دینا لازم ہو گا ، تاہم سائل کے بڑے بھائی نے والدِ مرحوم کے تر کے میں سے جس قدر حصہ دیگر ورثاء کا اپنے قبضے میں رکھا ہے ، تو ورثاء کے لئے والدہ کے ترکے میں بڑے بھائی کو ملنے والے حصے میں اس کے بقدر کٹوتی کرنے کا حق حاصل ہوگا۔

مأخَذُ الفَتوی

وكما في مشکاۃ المصابیح : وعن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ‌قطع ‌ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة» . رواه ابن ماجه،اھ (ج:2 الفصل الثالث ص : 926 ناشر : بیروت)
وفی شرح المجلۃ: لایجوز لأحد ان یأخذ مال احد بلا سبب شرعی ،اھ ( الباب السادس فی بیان الخیارات عفیہ سبعۃ فصول ج:1 ص: 264 ناشر: اسلامیہ)
وفي مجمع الانہر: ‌كل ‌واحد ‌من ‌الشريكين أو الشركاء شركة ملك (أجنبي في نصيب الآخر) حتى لا يجوز له التصرف فيه إلا بإذن الآخر كغير الشريك لعدم تضمنها الوكالة.اھ (الشرکۃ ضربان، ج؛1 ص : 715 ناشر :دار الطبعۃ العامر)
وفي حاشیۃ ابن العابدین: تركه ‌الميت ‌من ‌الأموال صافيا عن تعلق حق الغير،الخ (کتاب الفرائض ، ج: 6 ص : 759 ناشر: سعید )

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد زکریا الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91736کی تصدیق کریں
0     94
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات