گناہ و ناجائز

جسم کے اعضاء کسی کو عطیہ کرنا

فتوی نمبر :
91797
| تاریخ :
2026-02-06
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

جسم کے اعضاء کسی کو عطیہ کرنا

السلام علیکم! کیا کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو اپنے جسم کے اعضاء ( جیسے آنکھ پھیپڑا) یا کوئی بھی عضو ڈونیٹ کرسکتا ہے ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

جانتا چاہیے کہ انسانی اعضاء و اجزاء انسان کی اپنی ملکیت نہیں کہ ان میں وہ مالکانہ تصرفات کرسکے، اسی لیے ایک انسان اپنی جان یا اپنے اعضاء و جوارح کو نہ بیچ سکتا ہے، نہ کسی کو ہدیہ یا ڈونیٹ کر سکتا،اس لئے اس سے احتراز لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الفتاوى الهندية :الانتفاع بأجزاء الآدمي لم يجز قيل للنجاسة وقيل للكرامة هو الصحيح كذا في جواهر الأخلاطي.الخ(ج:۵،ص:۳۵۴،- الباب الثامن عشر في التداوي والمعالجات،ط: المطبعة الكبرى الأميرية)
و فی البنایہ:(وحرمة الانتفاع بأجزاء الآدمي لكرامته) ش: يتعلق بقوله: أو الآدمي، والمعنى بخلاف جلد الخنزير فإنه لا يطهر بالدباغ لنجاسة عينه، ولجد الآدمي لكرامته؛ لأن الله تعالى كرمه، وفي استعمال جلده ابتذال له، هكذا قرره الشيخ الأكمل.اھ(باب الانتفاع باجزاء الآدمی،ج:۱،ص:۴۱۸،ط:دار الکتب العلمیہ)
و فی النهر الفائق شرح كنز الدقائق :(و) لم يجز أيضا بيع (شعر الإنسان) ولا الانتفاع به لأن الآدمي غير مبتذل فلا يجوز أن يكون شيء من أجزائه مهانا مبتذلا وهذا الإطلاق يعم الكافر، وقد صرح في (الفتح) في غير هذا المحل بأن الآدمي مكرم.اھ(باب بیع الفاسد،ج:۳،ص:۴۲۸،ط:دار الکتب العلمیہ)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد جنید رفیض الدین عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 91797کی تصدیق کریں
0     8
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات