السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ ! سورۃ توبہ میں واضح حکم اللہ عزوجل کا ہے کہ : مشرکین، اور تمام غیر مسلم کا مکہ، حرم شریف اور کعبہ میں داخلہ ممنوع ہے، پھر بھی آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ سعودی حکومت نے نئی پالیسی کے تحت غیر مسلموں کے لیے قوانین میں تبدیلی کر دی ہے، اب تمام مسلمانوں اور ممالک کا یہ فرض ہے کہ ان کو اس معاملے میں اللہ کے احکامات لازمی نفاذ کرنے کی درخواست کریں ،ورنہ تمام امت اس گناہ میں شامل سمجھی جائے گی، حجاز مقدس تمام عالم اسلام کا ہے ،نہ کہ ایک مملکت کا، اس میں شریعت کا نفاذ لازم کیا جانا چاہیے۔ براہ مہربانی رہنمائی فرمائیں ،جزاک اللہ خیراً، والسلام علیکم ورحمۃاللہ وبر کاتہ۔
سائل نےسوال میں قرآن کریم کی جس آیت مبارکہ (سورۃ التوبہ: 28) کا حوالہ دیا ہے، فقہائے امت نے اس آیت کی تفسیراور اس کے دائرۂ اطلاق میں تفصیلی کلام کیا ہے۔اور بعض فقہاء (شوافع وحنابلہ) نے اس آیت کریمہ کو مطلقاًغیر مسلموں کے حدود حرم میں داخلہ کی ممانعت پر محمول کیا ہے، البتہ اس حکم کی عملی تنفیذ اور انتظامی نفاذ، حرمین شریفین کے متولی اور ذمہ دار حکام کی ذمہ داری قرار دیا ہے ۔جبکہ بعض فقہاء (احناف) کے نزدیک غیر مسلموں کی حدود حرم میں داخلہ کی بالکلیہ ممانعت نہیں ، بلکہ وہ سربراہ مملکت کی اجازت سے کسی ضرورت کی بناءپرعارضی طور پر حدود حرم میں داخل ہوسکتےہیں ، تاہم یہ اجازت وداخلہ ایسا بھی نہ ہو کہ جس سے کفار کا حدود حرم پرغلبہ وقبضہ کا اندیشہ ہونے لگے۔
لہذا اگر کسی مسلمان کو یہ یقین ہو کہ کسی معاملہ میں شریعت کے حکم کے مطابق عمل نہیں ہورہا، تووہ حکمت، ادب اور خیرخواہی کے جذبہ کے ساتھ ذمہ دار حکام تک اپنی رائے اور درخواست پہنچاسکتاہے، کیونکہ مسلمانوں کو امر بالمعروف اور نصیحت کا حکم دیا گیا ہے۔ البتہ یہ کہنا کہ اگردنیا بھرکے مسلمان اس سلسلے میں اجتماعی طور پر مطالبہ نہ کریں تو پوری امت گناہ گار ہوگی، شرعاً درست نہیں ، کیونکہ کسی انتظامی معاملہ میں شرعی حکم کی خلاف ورزی کی ذمہ داری تمام مسلمانوں پر نہیں، بلکہ اسی پر عائد ہوتی جو اس ذمہ داری پر معمور اور قدرت واختیار رکھتاہو ۔چنانچہ سائل کو اس حوالے سے تمام مسلمانوں کو مورد الزام ٹھہرانےاور طعن وتشنیع کرنے سے احتراز کرناچاہیئے۔
کما في احکام القرآن للجصاص الرازی الحنفی: و قوله تعالى: {فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا} قد تنازع معناه أهل العلم(الی قولہ) أن يكون المراد منعهم من دخول مكة للحج؛ ولذلك أمر النبي صلى الله عليه وسلم بالنداء يوم النحر في السنة التي حج فيها أبو بكر فيما روى الزهري عن حميد بن عبد الرحمن عن أبي هريرة أن أبا بكر بعثه فيمن يؤذن يوم النحر بمنى: أن لا يحج بعد العام مشرك، فأنزل الله تعالى في العام الذي نبذ فيه أبو بكر إلى المشركين: {يا أيها الذين آمنوا إنما المشركون نجس} الآية، وفي حديث علي حين أمره النبي صلى الله عليه وسلم بأن يبلغ عنه سورة براءة نادى: ولا يحج بعد العام مشرك (الی قولہ) وقد روى حماد بن سلمة عن حميد عن الحسن عن عثمان بن أبي العاص "أن وفد ثقيف لما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم ضرب لهم قبة في المسجد، فقالوا: يا رسول الله قوم أنجاس فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إنه ليس على الأرض من أنجاس شيء إنما أنجاس الناس على أنفسهم"(مطلب ھل یجوز دخول المشرک المسجد، ج: 3، ص: 88، مط: سھیل اکیڈمی-لاھور)
وفي الفقہ الاسلامی و ادلتہ: ففي رأي أبي حنيفة: يجوز للكافر دخول أي مكان في دار الإسلام، حتى الحرم المكي والمسجد الحرام، فله الدخول والإقامة في حرم مكة والمسجد مدة مقام المسافر ـ ثلاثة أيام بلياليها ـ وأجاز الحنفية لغير المسلم دخول المساجد كلها ومنها المسجد الحرام، من غیر اذن؛ لانہ لیس المراد من آیۃ: { إنما المشركون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا} [التوبة:9/28] النھی عن دخول المسجد الحرام، وانما المراد النھی عن ان یحج المشرکون ویعتمروا کما کانوا یفعلون فی الجاھلیۃ۔(الفصل الثانی: انتھاء الحرب بالاسلام او بالمعاھدات، ج: 8، ص: 5870، مط: رشیدیۃ کوئٹۃ)
وفی البحر الرائق شرح کنز الدقائق: وفي الحاوي ولا بأس أن يدخل الكافر وأهل الذمة المسجد الحرام وبيت المقدس وسائر المساجد لمصالح المسجد وغيرها من المهمات، الخ (فصل اختص المسجد بأحكام تخالف أحكام مطلق الوقف، ج: 5، ص: 271، مط: دار الكتاب الإسلامي)
وفی الدر المختار: وفي شرح الوهبانية للشرنبلالي: ويمنعون من استيطان مكة والمدينة لأنهما من أرض العرب قال عليه الصلاة والسلام «لا يجتمع في أرض العرب دينان» ولو دخل لتجارة جاز ولا يطيل. وأما دخوله المسجد الحرام فذكر في السير الكبير المنع، وفي الجامع الصغير عدمه والسير الكبير آخر تصنيف محمد - رحمه الله تعالى – الخ (كتاب الجهاد، مطلب في أحكام الكنائس والبيع، ج: 4، ص: 208، مط: سعید کراچی)
وفی رد المحتار تحت قولہ ( ولا يطيل): فيمنع أن يطيل فيها المكث حتى يتخذ فيها مسكنا لأن حالهم في المقام في أرض العرب مع التزام الجزية كحالهم في غيرها بلا جزية وهناك لا يمنعون من التجارة، بل من إطالة المقام فكذلك في أرض العرب شرح السير وظاهره أن حد الطول سنة تأمل (الیٰ قولہ) فالظاهر أن ما في السير الكبير هو قول محمد وحده دون الإمام، وأن أصحاب المتون على قول الإمام، ومعلوم أن المتون موضوعة لنقل ما هو المذهب، فلا يعدل عما فيها على أن الإمام السرخسي ذكر في شرح السير الكبير أن أبا سفيان جاء إلى المدينة، ودخل المسجد، (الیٰ قولہ) فأما عندنا لا يمنعون كما لا يمنعون عن دخول سائر المساجد ويستوي في ذلك الحربي والذمي إلخ (كتاب الجهاد، مطلب في أحكام الكنائس والبيع، ج: 4، ص: 208-209، مط: سعید کراچی)