کیا فرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص چوری کرتا ہے اور دوسرے کو پتہ بھی ہے کہ اس کے پاس مال چوری کا ہے ، اور وہ چوری کا مال گاڑیوں سے اتر واتا ہے، اور اس کے لیے لوگوں کو مزدوری پر رکھ کر سامان اتارنے کی مزدوری دیتا ہے، تو کوئی دوسرا شخص اس چوری کرنے والے کی مزدوری کر سکتا ہے ؟ اور اس مال اتار نے پر مزدور کے لیے مز دوری لینا جائز ہے؟
مسئولہ صورت میں گاڑیوں سے مال اتار نے والے مزدوروں کی اجرت اگر چہ حرام نہ ہوگی، بشر طیکہ اجرت حلال مال یا غالب حلال سے دی جائے، تاہم اگر مزدور کو معلوم ہو کہ یہ مال چوری کا ہے تو اس کے لیے اس مال کو اُتار نا گناہ کے کام میں معاونت کی وجہ سے شرعا جائز نہیں، لہذا مزدوروں کو علم ہوتے ہوئے چوری شدہ مال اتارنے سے اجتناب لازم ہے۔
كما في الفتاوى البزازية: وإن استأجره ليكتب له غناء بالفارسية أو بالعربية قيل لا يحل الأجر والمختار أنه يحل لأن المعصية في القراءة اھ (6/ 17)
و في المحيط البرهاني في الفقه النعماني: و في «فتاوى أهل سمرقند» : إذا استأجر رجلاً ينحت له طنبوراً أو بربطا ففعل يطيب له الأجر إلا أنه يأثم في الإعانة على المعصية اگ (7/ 481)
و في الدر المختار : جاز تعمير كنيسة.
و في حاشية ابن عابدين (رد المحتار): (قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل اھ (6/ 391) والله اعلم بالصواب