میری شادی کو دس سال ہوئے،مسائل بہت زیادہ تھے،آٹھ مہینے سے اپنے والد کے گھر میں ہوں ، اسی مہینے میری بیٹی کی ولادت ہوئی ، ولادت کے کچھ دن بعد باہمی رضامندی سے طلاق پر دستخط ہوگئے ، بچی چھوٹئ ہے ، میرے پاس ہے ،اب کیا میں عدت گزارو ں یا نہ گزاروں کیونکہ میں آٹھ مہینے سے اپنے ابو کے پاس ہوں، اسی ماہ بچی کی ولادت ہوئی ہے ، اس پر عدت ہوگی یا نہیں، اگر ہوگی تو کتنی؟
واضح ہوکہ طلاق سے قبل شوہرسے طویل عرصہ علیحدگی کا شرعاً اعتبار نہیں اور نہ ہی اس سے عدتِ طلاق پرکوئی اثر پڑتاہے ، بلکہ وقوع ِطلاق کے بعد بہرصورت عدت گزارنالازم رہتاہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں سائلہ کے طلاق سے پہلے آٹھ مہینے میکے میں مقیم رہنےسے عدت کا حکم متاثر نہیں ہوگا، بلکہ اس پربدستور طلاق کی عدت گزارنا ہوگی۔جس کی صورت یہ ہےکہ سائلہ نفاس (بچی کی ولادت کے بعدجاری ہونے والاخون )کاخون رکنے کے بعدتین حیض عدت گزارنےکےبعدہی کسی دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزادہوگی ۔
کما فی الدرالمختار: وفي القنية: ولدت ثم طلقها ومضى سبعة أشهر فنكحت آخر لم يصح إذا لم تحض فيها ثلاث حيض وإن لم تكن حاضت قبل الولادة لأن من لا تحيض لا تحبل اھ(باب العدۃ،ج:3،ص: 528، ناشر : سعید)
وفی البحرالرائق: ولدت ثم طلقها زوجها ومضى سبعة أشهر وتزوجت بآخر لا تصح إذا لم تحض فيها ثلاث حيض قيل له، فإن لم تكن حاضت قبل الولادة قال الجواب كذلك؛ لأن ولادتها كالحيض؛ لأن من لا تحيض لا تحبل اهـ.(باب العدۃ،ج:4، ص:160،ناشر:داراکتاب الاسلامی)
بیوی کا پانچ سال شوہر سے علیحدہ رہنے کےبعد طلاق ہو جانے کی صورت میں عدت گرازنا لازم ہے؟
یونیکوڈ احکام عدت 0