میں پاکستان سے باہر ہوتا ہوں اور میری بیوی پاکستان میں ہوتی ہے۔ سال سال بعد پاکستان جاتا ہوں، لیکن میری بیوی میرے سامنے ویڈیو کال پر آتی ہے، بہت رومانٹک باتیں بھی ہوتی ہیں اور وہ مجھ سے پیار کرنا چاہ رہی ہوتی ہے۔ ظاہر سی بات ہے اس کی بھی جنسی ضروریات ہیں اور میری بھی، لیکن مجبوری ہے الگ رہنا۔ کبھی کبھی اپنی جنسی ضرورت ہاتھ سے پوری کرنا، لیکن ویڈیو کال پر ایک دوسرے کے سامنے رہ کر کرنا۔ اس طرح کیا گناہ ہوگا؟
مىاں بىوى كا اىك دوسرے كے جسم كو دىكھنے كى اگرچہ اجازت ہے، لىكن سوال مىں مذكور طرىقہ اختىار كرنے كى صورت مىں چونكہ مىاں بىوى کا خود لذتی (Masturbation) کے ذریعےاپنی شہوت پوری کرنا ىقىنى ہے، جو شرعاً نا جائز اور انتہائى قبیح عمل ہے، (خواہ یہ عمل اپنی بیوی سے ویڈیوکال پردیکھ کرہی کیوں نہ ہو)،جس پر احادىث مباركہ مىں سخت وعىد وارد ہوئى ہے، اس لىے اس سے حتی الامکان اجتناب ضروری ہے ، لہذاگر ملك سے باہر رہنے كى صورت مىں مىاں بىوى كىلئے اپنے جذبات اور خواہشات پر قابو رکھنا مشکل ہو، تو سائل كو چاہئے كہ بیوی کو بھی اپنےساتھ وہاں رکھنےکی ترتیب بنائے، یا پھرگھرسےاتناعرصہ دوررہنےسے گریزکرے، جس میں اس قسم کے گناہوں مبتلاءہونےکا شدید اندیشہ پیدا ہو ۔
کما في شعب الإيمان للبيهقي: عن أنس بن مالك رضي الله عنه، عن النبي ﷺ قال: "سبعة لا ينظر الله عز وجل إليهم يوم القيامة ولا يزكيهم، ولا يجمعهم مع العالمين، يدخلهم النار أول الداخلين إلا أن يتوبوا إلا أن يتوبوا إلا أن يتوبوا، فمن تاب تاب الله عليه، الناكح يده، والفاعل والمفعول به، ومدمن الخمر، والضارب أبويه حتى يستغيثا، والمؤذي جيرانه حتى يلعنوا، والناكح حليلة جاره". [السابع والثلاثون من شعب الإيمان "وهو باب في تحريم الفروج وما يجب من التعفف عنها، رقم الحديث (5087) ج:7 ص: 330 ط: مكتبة الرشد، ت: مختار أحمد الندوي)]
وفي روح المعانی: ومن الناس من استدل على تحريمه بشيء آخر نحو ما ذكره المشايخ من قوله ﷺ: «ناكح اليد معلون» وعن سعيد بن جبير: عذب الله تعالى أمة كانوا يعبثون بمذاكيرهم، وعن عطاء: سمعت قوما يحشرون وأيديهم حبالى وأظن أنهم الذين يستمنون بأيديهم والله تعالى أعلم اهـ [سورة المؤمنون الآية 1-22 ج:9 ص:214 ط: دار الكتب العلمية]
وفي رد المحتار: بخلاف ما إذا كان بكفه ونحوه وعلى هذا فلو أدخل ذكره في حائط أو نحوه حتى أمنى أو استمنى بكفه بحائل يمنع الحرارة يأثم أيضا ويدل أيضا على ما قلنا ما في الزيلعي حيث استدل على عدم حله بالكف بقوله تعالى {والذين هم لفروجهم حافظون} [المؤمنون: 5] الآية وقال فلم يبح الاستمتاع إلا بهما أي بالزوجة والأمة اهـ فأفاد عدم حل الاستمتاع أي قضاء الشهوة بغيرهما هذا ما ظهر لي والله سبحانه أعلم اهـ [كتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، مطلب في حكم الاستمناء بالكف، ج:2 ص:399 ط: ايچ ايم سعيد)]