السلام علیکم۔
تکافل( state life) کیا ہے ؟ اور یہ جائز ہے اس پر روشنی ڈالیں۔
مروجہ انشورنس اور بیمہ کمپنیوں کا طریقہ کار چونکہ ربا، غرر اور قمار پر مبنی ہونے کی وجہ سے جائز نہیں جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ "تکافل" جو وقف وغیرہ کی بنیاد پر قائم کیا جاتا ہے، اور مروجہ انشورنس کے شرعی متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے،اس لئے اس کو اختیار کرنے میں حرج نہیں، مزید تفصیل مولانا عصمت اللہ صاحب زید مجدہم کی کتاب "تکافل کی شرعی حیثیت" میں دیکھی جاسکتی ہے۔
قال اللہ تعالی: لَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا ( سورۃ البقرۃ ایۃ 275)۔
و فی بذل المجھود: قال احمد بن یونس (الی قولہ) عن أبیہ قال ، لعن رسول اللہﷺ اکل الربوا و موکلہ وشاھدیہ وکاتبہ، اکل الربوا: أی اخذہ سواء أکلہ بعد ذلک أم لا الخ (5/239)۔
و فی البدائع: الغرر ھو الخطر الذی استوفی فیہ طرف الوجود والعدم بنمزلۃ الشک الخ (5/163)۔
و فی الشامیۃ: والذی یظھر لی أنہ لایجوز للتاجر أخذ بدل الھالک من مالہ لان ھذا التزام مالم یلزم الخ (4/170)۔
ملازمین کیلئے انہی کی تنخواہوں میں، انشورنس کمپنی سے کوئی پالیسی لینا
یونیکوڈ انشورنس یا بیمہ پالیسی 0