کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا عورت کے لیے نا محرم مرد کا بچا ہوا کھانا ،کھانا جائز ہے۔
واضح ہو کہ عام حالات میں اجنبی مرد کے لیئے اجنبیہ عورت کا جھوٹا ، اسی طرح اس کے برعکس اجنبیہ عورت کے لیے اجنبی مرد کا جھوٹا ، حلال ہے، البتہ اجنبی مرد یا اجنبیہ عورت کی طرف قلبی میلان اور تلذذ کے تصور کے ساتھ اس کے جھوٹے کا استعمال کرنا مکروہ ہے ، جس سے احتراز چاہیئے۔
کما فی در المختار : (فسؤر الآدمي مطلقا) و لو جنبا أو كافرا أو امرأة ، نعم يكره سؤرها للرجل كعكسه للاستلذاذ و استعمال ريق الغير ، و هو لا يجوز مجتبى .(۱/۲۲۲)۔
و کما فی الھندیۃ : و کراھۃ سؤر المرأۃ للأجنبی کسؤرہ لھا لیس لعدم طھارتہ ، بل للإستلذاذ کذا فی النھر الفائق الخ( ۱/ ۲۳)۔
و کما فی البحرائق : فقد صرح فی المجتبی من باب الحظر و الإباحۃ أنہ یکرہ سؤر المرأۃ للرجل و سؤرہ لھا الخ(۱/ ۱۲۶)۔