گناہ و ناجائز

ڈی این اے ٹیسٹ سے نسب ثابت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
92695
| تاریخ :
2026-02-26
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

ڈی این اے ٹیسٹ سے نسب ثابت کرنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!حضرت مفتی صاحب !امید ہے کہ آپ بخیر ہوں گے!
ایک شخص کے ساتھ نسب کے متعلق ایک نہایت حساس اور نازک معاملہ پیش آیا ہے، جس میں شریعت کی روشنی میں صحیح رہنمائی مطلوب ہے۔صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک شوہر کی شادی باقاعدہ نکاح کے ساتھ ہوئی اور شادی کے ساڑھے سات مہینے بعد بیوی کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ بعض خارجی قرائن طبی رپورٹس (الٹراساؤنڈ وغیرہ) اور دیگر حالات کی وجہ سے شوہر کے دل میں نسب کے بارے میں قوی شبہات پیدا ہوگئے ہیں۔ تاہم شوہر شرعاً لعان جیسے سنگین اور آخری اقدام سے حتی الامکان بچنا چاہتا ہے، کیو نکہ لعان کے سنگین شرعی اور معاشرتی نتائج ہیں۔اس دوران کچھ بظاہر متدین اور دیانتدار مسلم ڈاکٹرز سے مشورہ کیا گیا، تو انہوں نے محض حقیقت کے بارے میں حقیقت تک پہنچنے اور اطمینان قلب حاصل کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا مشورہ دیا، تاکہ نسب کے بارے میں حقیقت واضح ہوسکے۔
واضح رہے کہ شوہر کا اعتقاد یہ ہے کہ شرعاً نسب کے اثبات یا نفی کا اصل اور قطعی معیار وہی ہے جو شریعت نے مقرر فرمایا ہے، اور وہ ٹیسٹ کو بذات خود نسب کے اثبات یا نفی کے لیے مستقل اور قطعی شرعی دلیل نہیں سمجھتا۔شوہر ٹیسٹ کو شرعی دلیل کے طور پر نہیں بلکہ صرف ایک ظاہری و سائنسی قرینہ اور اطمینان قلب یا حقیقت تک رسائی کے ایک ذریعہ کے طور پر دیکھتا ہے۔شوہر کا اصل مقصد لعان جیسے انتہائی اقدام سے بچنا اور حق کی تلاش ہے، نہ کہ شریعت کے مقرر کرده اصولوں کا انکار۔
ٹیسٹ کروانے کی اجازت دیتا ہے۔ DNA ملکی قانون (پاکستانی قانون )بھی عدالت کے ذریعے ،اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسی صورت میں، جبکہ شوہر اعتقاداً ڈی این اے ٹیسٹ کو نسب کے اثبات یا نفی کے لیے مستقل شرعی دلیل نہیں مانتا، بلکہ صرف حق کی تلاش، اطمینان قلب اور لعان سے بچنے کے لیے، بظاہر دیندار ڈاکٹرز کے مشورے پر ڈی این اے ٹیسٹ کرواتا ہے، تو کیا شرعاً اس شوہر کے لیے تیست کروانے کی گنجائش ہے یا نہیں؟نیز اگر اس کی اجازت ہے تو کن شرائط کے ساتھ ہے ؟قرآن و سنت، فقہ حنفی اور اکابر علماء کی تصریحات کی روشنی میں مدلل جواب عنایت فرمایا جائے۔ جزاكم الله خيرا۔والسلام۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ اگر نکاح و شادی کےچھ ماہ بعد کسی کے یہاں بچہ کی پیدائش ہوجائے تو شرعا وہ ثابت النسب شمار ہوگا(یعنی جس کے نکاح میں عورت موجود ہے،اسی سے نسب ثابت ہوگا )،الا یہ کہ شوہربچے کی پیدائش کے وقت صراحۃ اس بچے کے نسب کا انکار کرے،اور بیوی شوہر کی بات کی تصدیق نہ کرے تو ایسی صورت میں میاں بیوی کے درمیان "لعان" کے ذریعے علیحدگی ہو کر رشتہ ازدواج ختم ہو جاتا ہے،نیز شرعی نقطہ نظر سے ثبوت نسب کے لیے ڈی ۔این۔ اے(DNA) ٹیسٹ کی حیثیت محض ایک قرینہ اور علامت کی ہے، لہذا صورت مسؤلہ میں جب مذکور شخص کے ہاں نکاح کے ساڑھے سات ماہ بعد بچے کی پیدائش ہوئی ہے تو شرعی اعتبار سے بچے کا نسب مذکور شخص سے ثابت ہے ،اس لیے مذکور شخص کا محض شکوک و شبہات کی وجہ سے ڈی۔ این ۔اے(DNA) ٹیسٹ کرواکر اپنی ازدواجی زندگی کو متاثر کرنا قطعا مناسب نہیں ،جس سے اسے اجتناب کرنا چاہیے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی صحیح البخاری: الولد للفراش وللعاهر الحجر الخ (كتاب الفرائض،ج: 2،ص:999،ط: قدیمی کتب خانہ)
وفي ردالمحتار: (تحت قوله: على أربع مراتب): ضعيف: وهو فراش الأمة لا يثبت النسب فيه إلا بالدعوة. ومتوسط: وهو فراش أم الولد، فإنه يثبت فيه بلا دعوة، لكنه ينتفي بالنفي. وقوي: وهو فراش المنكوحة ومعتدة الرجعي فإنه فيه لا ينتفي ‌إلا ‌باللعان.الخ(مطلب: الفراش على أربع مراتب،ج:3،ص:550،ط:سعید)
وفی الھندیۃ: قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير دعوة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط الخ ( الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب،ج: 1،ص:536،ط:ماجدیۃ)
وفي الھدایۃ: وإذا تزوج الرجل فجاء ت بولد لأقل من ستۃ أشھر منذ یوم تزوجھا لم یثبت نسبہ لأن العلوق سابق علی النکاح فلا یکون منہ و إن جاء ت بہ لستۃ أشھر فصاعدا، یثبت نسبہ منہ، اعترف بہ الزوج أو سکت، لأن الفراش قائم والمدۃ تامۃ۔ اھ(باب ثبوت النسب،ج:2،ص:437،ط: قدیمی کتب خانہ)
وفی المبسوط: ثم النسب إنما يثبت باعتبار الفراش القائم بمنزلة ما لو أقر الزوج بولادتها وقال ليس الولد مني يثبت النسب بالفراش القائم ‌ولا ‌ينتفي ‌إلا ‌باللعان.اھ(باب العدة وخروج المرأة من بيتها،ج:6،ص:50،ط:دار المرفة)
وفي شرح المجلة: المادة 1741 :القرينة القاطعة هي الامارة البالغة حد اليقين مثلا اذا خرج احد من دار خالية خائفاً مدهوشاً في يده سكين ملوثة بالدم فدخل في الدار ورؤى فيها شخص مذبوح في ذلك الوقت فلا يشتبه في كونه قاتل ذلك الشخص ولا يلتفت الى الاحتمالات الوهمية الصرفة كأن يكون الشخص المذكور ربما قتل نفسه راجع المادة ( ٧٤ ).(فصل فی بیان القرینۃ القاطعۃ،ج:6،ص:390،ط:حقانیۃ)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
حسین احمد عبدالمجید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92695کی تصدیق کریں
0     120
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات