گناہ و ناجائز

کمپنی کو اپنا سامان فروخت کرنا

فتوی نمبر :
92740
| تاریخ :
2026-02-27
حظر و اباحت / جائز و ناجائز / گناہ و ناجائز

کمپنی کو اپنا سامان فروخت کرنا

محترم جناب مفتی صاحب السلام علیکم:
مجھے آپ سے ایک مسئله میں رہنمائی چاہئے امید ہے آپ دین اسلام کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں گے:
میں ایک پرائیویٹ فرم میں ملازمت کرتا ہوں، جہاں میں خریداری(پرچيسر) کا کام کرتا ہوں،میں چاہتا ہوں کسی پارٹنر کے ساتھ مل کر اپنی ہی فرم میں مال فروخت کروں جہاں میں جاب کرتا ہوں کیا میرے لئے اس طرح کام کرنا جائز ہوگا .اگرچہ میرا ارادہ کمپنی کو دھوکہ دینا یا نقصان دینا ہرگز نہیں ہے.

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل جس فرم کے لیے خریداری کا کام کرتا ہے سامان کی خریداری میں سائل کی فقہی اور شرعی حیثیت وکیل بالاجرۃ کی ہے(یعنی سائل اجرت اور فيس لیکر کمپنی کے لیے چیزیں خریدنے کا وکیل ہے) جبکہ ایک ہی شخص ایک ہی وقت میں یا تو خریدار بن سکتا ہے یا فروخت کرنے والا، شرعا ایک ہی شخص کا بیک وقت خریدار اور فروخت کنندہ بننا درست نهيں۔
لہذا صورت میں مسئولہ میں سائل اگر اپنی ہی چیز کمپنی کو فروخت کریگا تو بیک وقت خریدار اور فروخت کرنے والا ہوگا جو کہ جائز نہیں، اس لیے سائل کا کمپنی کو اپنا سامان فروخت کرکے دیدینا جائز نہیں ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

في مجلة الأحكام العدلية: الْمَادَّةُ (1488) لَوْ بَاعَ الْوَكِيلُ بِالشِّرَاءِ مَالَهُ لِمُوَكِّلِهِ لَا يَصِحُّ.(الفصل الثاني: في بيان الوكالة بالشراء1/289)
في درر الحكام في شرح مجلة الأحكام: ( 1488 ) - ( لَوْ بَاعَ الْوَكِيلُ بِالشِّرَاءِ مَالَهُ لِمُوَكِّلِهِ لَا يَصِحُّ ) . لَيْسَ لِلْوَكِيلِ بِالشِّرَاءِ أَنْ يَشْتَرِيَ لِلْمُوَكِّلِ أَرْبَعَةَ أَنْوَاعٍ مِنْ الْأَمْوَالِ : 1 - لَيْسَ لِلْوَكِيلِ بِالشِّرَاءِ أَنْ يَشْتَرِيَ مَالَهُ لِمُوَكِّلِهِ , يَعْنِي لَوْ اشْتَرَى الْوَكِيلُ بِالشِّرَاءِ مَالَ نَفْسِهِ لِمُوَكِّلِهِ لَا يَصِحُّ شِرَاؤُهُ , وَلَوْ قَالَ : لَهُ : اشْتَرِ مَالَ نَفْسِك لِي ; لِأَنَّ الشَّخْصَ الْوَاحِدَ لَيْسَ لَهُ أَنْ يَتَوَلَّى طَرَفَيْ الْعَقْدِ اه (3/616)
و فيه أيضا: ( المادة 167 ) : البيع ينعقد بإيجاب وقبول . ويجب أن يحصل القبول من الشخص الذي حصل الإيجاب له (إلى قوله) إلا أنه يشترط لصحة القبول الشروط السبعة الآتية (إلى قوله) 6 - صدور كل من الإيجاب والقبول من شخص غير الشخص الذي صدر منه الآخر . (إلى قوله) الشرط السادس : لا يصح قيام شخص بمفرده مقام العاقدين فيتولى طرفي العقد في وقت واحد أي أنه لا يجوز تولي شخص في عقد بيع واحد الإيجاب والقبول معا ; لأن أحد المتبايعين متملك والثاني مملك ولا تجتمع الصفتان في وقت واحد وفي شيء واحد . اه (البيوع، 1/114دارالكتب العلمية)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 92740کی تصدیق کریں
0     7
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات